انسانی کہانیاں عالمی تناظر

آبنائے ہرمز بندش کے نتیجہ میں 2 کروڑ 34 لاکھ بچوں کو غربت کا سامنا

ایک نوجوان جنوبی ایشیائی بچہ نیلے ویکسین کولر باکس کے پاس کنکریٹ کے کنارے پر بیٹھا ہے۔
© UNICEF/US CDC/Anita Khemka مالی غربت میں مجموعی اضافے کا 80 فیصد ایشیا اور افریقہ میں متوقع ہے۔

آبنائے ہرمز بندش کے نتیجہ میں 2 کروڑ 34 لاکھ بچوں کو غربت کا سامنا

معاشی ترقی

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی بحری تجارت میں آنے والی رکاوٹیں برقرار رہیں تو رواں سال کے اختتام تک مزید 2 کروڑ 34 لاکھ بچے غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ انتباہ یونیسف کی جانب سے آج جاری ہونے والی رپورٹ بعنوان 'غریب خاندانوں کے بچوں پر مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات' میں کیا گیا ہے۔ 167 سے زیادہ ممالک سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خوراک اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور امریکہ۔ایران تنازع سے پیدا ہونے والے دیگر معاشی دھچکوں کے بڑھتے ہوئے اثرات دنیا بھر میں لوگوں کی قوت خرید کو تیزی سے کم کر رہے ہیں۔

Tweet URL

رپورٹ میں دو ممکنہ منظرناموں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے جن میں شدید اور انتہائی شدید غربت شامل ہیں۔ 

  • اول الذکر منظرنامے کے مطابق، معتدل نوعیت کے معاشی بحران کی صورت میں مزید ایک کروڑ 83 لاکھ بچے غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
  • موخرالذکر منظرنامے کی رو سے، اگر جنگ طویل عرصہ تک جاری رہے گی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا اور معاشی سرگرمیوں میں شدید اور طویل تعطل آئے گا۔ ایسی صورت میں مزید دو کروڑ 34 لاکھ بچے غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں۔

ایشیا اور افریقہ کے مخدوش حالات

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا ہے کہ بچے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔ یہ صورتحال جس قدر طول پکڑے گی، اس کے نتائج اتنے ہی سنگین ہوتے جائیں گے۔ تیزی سے بڑھتی مہنگائی نے بے شمار خاندانوں کے لیے خوراک اور تعلیم کا حصول مشکل بنا دیا ہے جبکہ پہلے ہی غربت میں زندگی گزارنے والے بچوں کے لیے یہ معاشی دھچکے ان کی محرومیوں میں اضافہ کر رہے ہیں جن کے اثرات زندگی بھر برقرار رہ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، مالی غربت میں مجموعی اضافے کا 80 فیصد ایشیا اور افریقہ میں متوقع ہے۔ ان دونوں خطوں میں غربت کی شرح پہلے ہی بلند ہے اور یہ بیرونی معاشی دھچکوں سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں صومالیہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے بعد چند ہی روز کے دوران دارالحکومت موغادیشو میں ایندھن کی قیمتیں دوگنا سے زیادہ بڑھ گئیں جس کے باعث خوراک، پانی، نقل و حمل اور انسانی امداد کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب صومالیہ پہلے ہی شدید غذائی قلت سے دوچار ہے۔

عالمی ترقی غارت ہونے کا خدشہ

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات گزشتہ کئی برسوں کی عالمی ترقی کو غارت کر سکتے ہیں۔ اگر پالیسی کے حوالے سے فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید لاکھوں بچوں کو غربت میں دھکیل دے گا، امیر اور غریب میں فرق مزید بڑھ جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے معاشی بحالی پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو جائے گی۔

یونیسف نے حکومتوں، امداد فراہم کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو اس بحران کے بدترین اثرات سے بچانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ اگر عالمی برادری نے فوری کارروائی نہ کی تو جنگ، معاشی بدحالی اور مہنگائی کے مشترکہ اثرات مزید لاکھوں بچوں کو غربت میں دھکیل دیں گے اور ترقی کے لیے برسوں کی محنت سے حاصل ہونے والی کامیابیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔