لیبیا اور تیونس میں بڑھتی انسانی سمگلنگ اور ناجائز حراستوں پر تشویش
اقوام متحدہ کے ماہرینِ انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ افریقہ میں صحرائے اعظم کے ممالک سے تعلق رکھنے والے 7,400 افراد تیونس۔لیبیا سرحدی علاقے میں اور لیبیا کے اندر ناجائز حراست، تشدد اور انسانی سمگلنگ کا شکار ہیں جبکہ تیونس کی سکیورٹی فورسز اور لیبیا کے سرکاری و غیرسرکاری عناصر بھی ان کے استحصال میں ملوث ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق، تیونس کی سکیورٹی فورسز کے مبینہ گٹھ جوڑ سے تارکین وطن، پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کو ناجائز طور پر حراست میں لینے، ان کے ساتھ بدسلوکی، انہیں اجتماعی طور پر بے دخل کرنے اور لیبیا منتقل کرنے کا ایک منظم نظام قائم ہے۔
عینی شاہدین اور متاثرین نے بتایا ہے کہ، حراست میں لیے گئے لوگوں کو ڈرانے، سزا دینے اور مرعوب کرنے کے لیے باوردی اہلکار انہیں مار پیٹ کا نشانہ بناتے ہیں، ٹیزر گن اور لوہے کی سلاخوں سے تشدد کرتے ہیں، ان پر کتے چھوڑتے ہیں اور گولی مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔
تارکین وطن، پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی بار بار تلاشی لی جاتی ہے، انہیں تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ان کے موبائل فون، شناختی دستاویزات اور دیگر سامان ضبط کر لیا جاتا ہے جبکہ وہ مناسب خوراک اور طبی سہولتوں سے محروم رہتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور مردوں پر شدید جسمانی تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس تشدد کے باعث متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں اور خدشہ ہے کہ لیبیا میں عسکری تنصیبات کے قریب اجتماعی قبریں موجود ہیں۔
تارکین وطن کی خریدوفروخت
ماہرین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ، خواتین اور بچوں سمیت تارکین وطن، پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کو تجارتی جنس کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہیں تیونس۔لیبیا سرحد پر نقد رقم، ایندھن، حشیش یا دیگر اشیا کے عوض ایک دوسرے کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ ان کا استحصال کیا جا سکے جس میں جبری مشقت، جنسی استحصال، جنسی غلامی اور اغوا برائے تاوان شامل ہیں۔
مبینہ طور پر ہر فرد کی قیمت اس کے متوقع تاوان کی مالیت کے مطابق طے کی جاتی ہے اور جو لوگ ادائیگی نہیں کر پاتے وہ مسلسل استحصال کا شکار رہتے ہیں۔
لیبیا میں خواتین اور لڑکیوں کو جنسی استحصال اور جنسی غلامی کے لیے سمگل کیا جاتا ہے جبکہ مردوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ متاثرین کو حراستی مراکز سے نجی مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے، جہاں وہ ایک سے دوسرے گروہ کے ہاتھوں فروخت ہوتے رہتے ہیں۔
جرائم کی تحقیقات کا مطالبہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الزامات انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی فوجداری قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے تیونس اور لیبیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان الزامات کی فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں، جرائم کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور متاثرین کی انصاف اور موثر قانونی چارہ جوئی تک رسائی کو یقینی بنائیں۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ وہ ان معاملات کے حوالے سے تیونس اور لیبیا کی حکومتوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔