ورلڈ کپ کا ایک اور گول: بچوں اور نوعمر افراد کو ذہنی صحت بارے آگہی
سعودی عرب میں ڈاکٹر سحیرہ النہاری نے فن کے ذریعے ذہنی صحت پر بات چیت کو فروغ دینے کے لیے ایک تنظیم قائم کی تو انہیں محسوس ہوا کہ علاج کے لیے منعقدہ پروگراموں میں شریک مرد عموماً اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔
انہوں نے 'شفا آرٹ' نامی اپنی تنظیم کے پروگراموں میں یہ بھی دیکھا کہ بہت سے مرد ابتدا میں فٹبال کی جرسیوں یا اپنی پسندیدہ ٹیموں کی تصاویر بنانا شروع کرتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہی خاکے روزمرہ کی پریشانیوں اور ان اندرونی احساسات پر بات چیت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ لہٰذا، وہ سمجھتی ہیں کہ کھیل ایسے دروازے کھول سکتا ہے جہاں روایتی ذہنی صحت کے مباحث اکثر ناکام رہتے ہیں۔
ڈاکٹر النہاری وضاحت کرتی ہیں کہ فٹبال کا میدان اس بات کی مثال ہے کہ کامیابی کسی ایک فرد کی کوشش سے ممکن نہیں ہوتی۔ کھلاڑی، کوچ، طبی عملہ اور شائقین سب ایک نظام کا حصہ ہوتے ہیں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے بھی اسی طرح کے اجتماعی تعاون کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں نوجوانوں کے امور کے لیے معاون سیکرٹری جنرل فیلپ پاؤلیئر کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ کھیل نوجوانوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے اور اس سے جڑے منفی تصورات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 10 سے 19 سال کی عمر کے ہر سات افراد میں سے ایک کو ذہنی صحت کے کسی نہ کسی مسئلے کا سامنا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران نوجوانوں میں ڈپریشن کے رجحانات بڑھ گئے ہیں۔ تعلیم، روزگار، خاندانی حالات، غربت، ٹیکنالوجی کے اثرات اور سماجی رویوں سمیت متعدد عوامل ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
فیلپ پاؤلیئر نے کہا ہے کہ آج کے نوجوان ایک ایسے پیچیدہ ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں ڈیجیٹل تبدیلی، معاشی غیر یقینی، مسلح تنازعات، نقل مکانی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل ان کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، اس مسئلے سے نمٹںے کے موثر اقدامات میں ایسے پروگرام شامل ہونا چاہییں جو نوجوانوں میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، نقصان دہ رویوں کے متبادل فراہم کریں اور معاون سماجی ماحول کو فروغ دیں۔
فٹبال: جذباتی مضبوطی کا ذریعہ
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹیم کی صورت میں کھیلوں میں حصہ لینے والے نوجوانوں میں ڈپریشن اور بے چینی کی شرح نسبتاً کم ہوتی ہے، تاہم بہت سے نوجوانوں کو کھیلوں میں بامعنی شرکت کے مواقع حاصل نہیں ہو پاتے۔
اقوام متحدہ دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹبال کو نوجوانوں کے درمیان تعلق، شمولیت اور جذباتی مضبوطی پیدا کرنے کا موثر ذریعہ سمجھتا ہے۔ فیلپ پاؤلیئر کے مطابق، فٹبال لوگوں کو جوڑتا ہے اور معروف کھلاڑیوں کے ذریعے مثبت پیغامات کو وسیع پیمانے پر پہنچایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر النہاری کہتی ہیں کہ نوجوان خود بھی اپنی ذہنی صحت کے مسائل پر قابو پانے کے موثر طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کی بات سنیں اور ان کے ساتھ شراکت میں کام کریں کیونکہ نوجوان صرف مدد کے منتظر نہیں بلکہ تبدیلی کے فعال کردار بھی ہیں۔
'صرف فٹبال کافی نہیں'
اقوام متحدہ کا 'ایک دنیا، ایک کھیل، ایک مقصد' پروگرام فٹبال کی سماجی تنہائی کو کم کرنے کی صلاحیت اجاگر کرتا ہے، تاہم یہ نوجوانوں کی ذہنی صحت سے نمٹنے کے لیے جاری وسیع تر کوششوں کا صرف ایک حصہ ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' اور عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی جانب سے شواہد پر مبنی ایسے طریقہ کار بھی فراہم کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے حکومتیں سکولوں میں نوجوانوں کے لیے نفسیاتی معاونت کے موثر پروگرام نافذ کر سکتی ہیں۔
پاؤلیئر کے مطابق، نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے صرف کھیل ہی نہیں بلکہ ان کے موجودہ ماحول اور ضروریات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ذہنی صحت کے لیے آگاہی اور پروگراموں کے ساتھ مناسب مالی معاونت بھی ناگزیر ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ بیشتر ممالک اپنے صحت کے سالانہ بجٹ کا دو فیصد سے بھی کم حصہ ذہنی صحت کے لیے مختص کرتے ہیں، نتیجتاً اس شعبے میں تقریباً 200 ارب ڈالر کی مالی کمی موجود ہے۔
ان اعداد و شمار کے پیچھے لاکھوں نوجوانوں کی وہ مشکلات ہیں جو اکثر نظر انداز رہتی ہیں، بیان نہیں کی جاتیں اور جنہیں مناسب مدد نہیں مل پاتی۔