شعبہ صحت میں اے آئی کے استعمال پر قومی حکمت عملیاں وضع کرنے پر زور
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی سے متعلق حکمت عملی ایسی ہونی چاہیے جو طبی سہولیات اور علاج تک رسائی میں عدم مساوات کو مزید گہرا کرنے کے بجائے اس میں کمی لائے۔
ادارے نے یہ انتباہ ایسے وقت جاری کیا ہے جب اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے عالمی ضابطے تیار کرنے کے لیے رکن ممالک کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پر متفق کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ادارے اور پرتگال کی حکومت نے گزشتہ روز لزبن میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کا آغاز کیا جس میں 'ڈبلیو ایچ او' کے تمام چھ خطوں سے تعلق رکھنے والے 37 ممالک کے سرکاری نمائندے شریک ہوئے۔ اس کا مقصد صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق حکمت عملی اور تجربات کا تبادلہ کرنا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کی جانب سے رواں سال اپریل میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین کے 74 فیصد رکن ممالک تشخیص امراض میں معاونت کے لیے پہلے ہی مصنوعی ذہانت سے استفادہ کر رہے ہیں لیکن صرف 11 فیصد ممالک نے صحت کے شعبے کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق مخصوص حکمت عملی تیار کی ہے۔
صرف آٹھ فیصد ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ایسی قانونی ذمہ داریوں کا تعین کیا ہے جن کے تحت اس ٹیکنالوجی کی غلطی یا خرابی کی صورت میں جوابدہی ممکن ہو۔
ضابطہ بندی کی فوری ضرورت
یورپ کے لیے ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے نے کہا ہے کہ دنیا کا ہر ملک ایک ہی طرح کے سوالات سے دوچار ہے کہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ طور سے کیسے منظم کیا جائے، صحت کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت کو اسے محفوظ انداز میں استعمال کرنے کے لیے کیسے تیار کیا جائے اور کیسے یقینی بنایا جائے کہ اس ٹیکنالوجی سے وہی لوگ ہی فائدہ نہ اٹھائیں جو اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں بلکہ اس کا اصل فائدہ مریضوں تک پہنچے۔
انہوں نے کہا ہے کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے موثر ضابطہ بندی اس لیے بھی فوری ضرورت بن چکی ہے کہ مریض پہلے ہی اپنی بیماریوں کی علامات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے چیٹ بوٹس سے رجوع کر رہے ہیں۔
لزبن کانفرنس کا ہدف
ڈاکٹر کلوگے کا کہنا ہے کہ طبی شعبے میں مصنوعی ذہانت کو ضابطوں کے دائرے میں لانا مشکل کام ہے، لیکن اسے بے ضابطہ چھوڑ دینا اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس کی قیمت مریضوں کو نقصان پہنچنے، عوامی اعتماد کے مجروح ہونے اور صحت کے شعبے میں عدم مساوات مزید بڑھنے کی صورت میں چکانا پڑ سکتی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' نے 2021 میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی اور محفوظ استعمال سے متعلق رہنما اصول جاری کیے تھے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال مریضوں اور معاشروں کے مفاد میں، محفوظ اور اخلاقی انداز میں کیا جائے۔
لزبن کانفرنس کانفرنس کا ایک اہم مقصد ایسی حکمت عملی تیار کرنا بھی ہے جن کے ذریعے یقینی بنایا جا سکے کہ صحت کی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی رکھنے والے مریض، ممالک اور طبی ادارے اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں پیچھے نہ رہ جائیں۔