آبنائے ہرمز میں کمرشل بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی مذمت
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے(آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بحری جہازوں پر نئے حملوں کی مذمت کی ہے جن میں میں کم از کم دو ملاحوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
'آئی ایم او' کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایسے واقعات تشویشناک ہیں اور ادارہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر حالات و واقعات کی تصدیق کر رہا ہے۔ کشیدگی اور جوابی کارروائیوں کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے جبکہ ادارہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
'آئی ایم او' آبنائے ہرمز بند ہونے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات اٹھا رہا ہے جن میں اس اہم تجارتی گزرگاہ میں پھنسے بحری جہازوں کے لیے محفوظ انخلا کے راستے بنانا بھی شامل ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد برآمدات اسی آبی راستے سے گزرتی رہی ہیں جس کا بند ہونا عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم مسئلہ ہے۔
کشیدگی سے گریز کی اپیل
'آئی ایم او' نے کہا ہے کہ تمام متعلقہ فریقین پر لازم ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، مزید کشیدگی سے گریز کریں اور اختلافات کو حل کرنے کے لیے دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
ادارے کے مطابق، گزشتہ ہفتے سے شروع ہونے والی نئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے متعدد تجارتی جہاز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔
'آئی ایم او' نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسا راستہ اختیار کریں جو ملاحوں کی زندگی اور سمندری آمدورفت کی آزادی کو محفوظ بنائے تاکہ یہ خطرناک صورتحال مزید بے قابو نہ ہو۔
جنگ بندی بحال کی جائے: وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی آبنائے ہرمز بند ہونے کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس گزرگاہ پر کروڑوں لوگوں کا انحصار ہے۔ خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل میں رکاوٹیں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین معاشی اور انسانی بحران پیدا کر سکتی ہیں۔
ہائی کمشنر نے سفارت کاری سے کام لینے اور کشیدگی میں کمی کو فوری ترجیح دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایران اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف حملے فوری بند کریں، جنگ بندی کو بحال کیا جائے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اس پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
20 ہزار ملاحوں کو خطرہ
'آئی ایم او' کئی ماہ سے جاری اس جنگ کے دوران خطے میں 20 ہزار سے زیادہ ملاحوں کی حفاظت کے لیے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے جن میں وہ ملاح بھی شامل ہیں جو آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں پر موجود ہیں۔
ادارے نے گزشتہ ماہ تقریباً 11 ہزار ملاحوں کو خلیج سے بحفاظت نکالنے میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم 25 جون کو بحری جہازوں پر حملوں کے باعث یہ کارروائی عارضی طور پر روک دی گئی۔
ادارہ مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کے تحت قائم کی گئی آبنائے ہرمز ٹاسک فورس کا فعال رکن بھی ہے جو اس اہم آبی گزرگاہ میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات اٹھا رہی ہے۔