کانگو میں ایبولا کا پھیلاؤ جنگل کی آگ جیسا، ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے جہاں اب زیادہ تر ایسے مریض سامنے آ رہے ہیں جن کے حوالے سے یہ جاننا مشکل ہے کہ انہیں یہ بیماری کہاں سے لاحق ہوئی۔
ملک میں 'ڈبلیو ایچ او' کے شعبہ ہنگامی طبی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر چکوے ایہیکویازو نے بتایا ہے کہ 11 جولائی تک پانچ صوبوں میں تقریباً 2,000 مریضوں اور 700 سے زیادہ اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔
وبا شروع ہونے کے بعد ایک ماہ کے دوران مریضوں کی تعداد میں اس قدر تیزی سے اضافہ پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ یہ ماضی میں پھیلنے والی ایبولا کی وباؤں میں سب سے تیز رفتار ہے۔ گزشتہ چند روز میں نئے مریضوں کی تعداد غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہے یہاں تک کہ صرف 24 گھنٹوں میں 80 سے زیادہ مریض سامنے آ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ:
- یہ اب تک ایبولا کی تیسری بڑی وبا ہے۔
- زیادہ تر نئے مریض نامعلوم ذرائع سے وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔
- وائرس ابتدائی متاثرہ علاقے سے نکل کر دیگر صوبوں تک پھیل چکا ہے۔
- وبا پر قابو پانے کے لیے بروقت تشخیص اور عالمی تعاون نہایت ضروری ہیں۔
'بھڑکتی اور پھیلتی آگ'
ڈاکٹر چکوے کے مطابق، سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ حالیہ ایام میں رپورٹ ہونے والی بہت سی اموات ایسے افراد کی ہیں جو علاج کے لیے کسی طبی مرکز تک پہنچ ہی نہ سکے اور اپنے گھروں میں ہی انتقال کر گئے۔ اگرچہ تشخیص کے نظام میں بہتری آئی ہے اور مریضوں کے قریبی رابطوں کی نگرانی موثر انداز میں کی جا رہی ہے، لیکن نئے مریضوں میں سے 80 فیصد ایسے ہیں جن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کون سے لوگوں کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں ایبولا کا شکار بنے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو آگ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اندر کوئی ایسا عنصر موجود ہے جو اسے مسلسل بھڑکا رہا ہے اور یہ آگ ہر سمت پھیل رہی ہے۔
وبا سے نمٹنے کی حکمت عملی
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، اس وبا سے نمٹنے کے لیے دو محاذوں پر بیک وقت کام کیا جا رہا ہے۔ ایک جانب ایتوری میں وبا کے مرکز پر توجہ دی جا رہی ہے اور دوسری جانب لوگوں کی آمدورفت کا جائزہ لے کر ان علاقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جہاں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہے۔
ایبولا کی یہ وبا بنڈی بگیو قسم کے وائرس سے پھیلی ہے جس خلاف کئی ادویات کی تجرباتی آزمائشیں جاری ہیں لیکن تاحال اس مرض کا کوئی باقاعدہ منظور شدہ علاج دستیاب نہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مریض کو بروقت طبی نگہداشت اور معاون علاج فراہم کیا جائے تو اس کے زندہ بچنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر چکوے نے کہا ہے کہ مریضوں کی جلد از جلد تشخیص کر کے انہیں فوری علاج فراہم کرنا ہوگا تاکہ وائرس کی آبادیوں میں منتقلی کو روکا جا سکے۔
طبی مراکز پر حملوں کی روک تھام
انہوں نے طبی کارکنوں اور طبی مراکز پر حالیہ حملوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل شفافیت اور مقامی آبادی کے اعتماد کے حصول میں پوشیدہ ہے۔ علاج کے کسی بھی نئے مرکز کے قیام سے پہلے مقامی رہنماؤں کو وہاں آنے، انتظامات دیکھنے اور ان طبی کارکنوں سے ملنے کی دعوت دی جاتی ہے جو اپنے گھروں سے دور آ کر لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں۔
اگر لوگوں کو یقین ہو جائے کہ انہیں علاج کے ساتھ خوراک بھی ملے گی، وہ اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہ سکیں گے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا تو طبی مراکز پر حملوں کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
عالمی تعاون کی ضرورت
ڈاکٹر چکوے نے کہا ہے کہ دنیا کو ایبولا کے خلاف صرف کانگو کی مدد یا خیرات کے جذبے سے نہیں، بلکہ اپنے مشترکہ مفاد کے تحت متحد ہونا ہو گا۔ آج جس قدر زیادہ موثر اقدامات کیے جائیں گے، مستقبل میں تحفظ کی صورتحال بھی اسی قدر بہتر ہو گی۔
جنیوا میں 'ڈبلیو ایچ او' کے رکن ممالک وباؤں کے خلاف معاہدے کے اہم حصے یعنی 'جرثوموں تک رسائی اور ان کے تبادلے' سے متعلق ضمیمے پر مذاکرات کر رہے ہیں جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ وبائی صلاحیت رکھنے والے خطرناک جراثیموں اور وائرس کے بارے میں جینیاتی معلومات کا بلاتاخیر عالمی سطح پر تبادلہ کیا جائے اور ان کے خلاف تیار ہونے والی ویکسین اور علاج ترقی پذیر ممالک کو بھی دستیاب ہوں۔