نفرت انگیز بیانیے کے باوجود پناہ گزینوں سے ہمدردی کم نہیں ہوئی، سروے
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ اگرچہ پناہ کے متلاشی افراد کے بارے میں جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز بیانیے میں اضافہ ہوا ہے لیکن جنگوں اور مظالم سے جان بچا کر فرار ہونے والے لوگوں کے لیے عوامی حمایت اب بھی مضبوط ہے جو عام بحث سے کہیں زیادہ مثبت دکھائی دیتی ہے۔
'یو این ایچ سی آر' نے رائے عامہ جاننے کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے اِپسوس کے اشتراک سے 29 ممالک میں ایک جائزے کا انعقاد کیا، جس سے معلوم ہوا ہے کہ ہر دو تہائی افراد اتفاق کرتے ہیں کہ جنگوں یا مظالم سے جان بچا کر نکلنے والے لوگوں کو کسی دوسرے ملک میں پناہ مانگنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
جائزے کے مطابق:
- دنیا کے بیشتر لوگ اب بھی پناہ حاصل کرنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں۔
- نوجوان نسل (جنریشن زی) مہاجرین کی سب سے زیادہ حامی ہے۔
- غلط معلومات اور نفرت انگیز مہمات پناہ گزینوں اور مہاجرین کے لیے عوامی ہمدردی کو ختم نہیں کر سکیں۔
تحفظ کی ضرورت اور متضاد تصورات
جائزے سے سامنے آیا ہے کہ، حق پناہ کی حمایت کرنے والوں کے برابر تعداد میں لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پناہ کے متلاشی بہت سے لوگوں کو درحقیقت تحفظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
برطانیہ میں اِپسوس کی منیجنگ ڈائریکٹر ٹرن ٹو کا کہنا ہے کہ دلچسپ طور پر اکثر یہی لوگ بیک وقت دونوں طرح کے خیالات رکھتے ہیں۔ ایک طرف لوگ شدید مشکلات سے دوچار افراد کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن دوسری طرف انہیں اس بات پر بھی شبہ ہے کہ آیا پناہ کی فراہمی، سرحدی انتظام اور مہاجرین کے انضمام کا موجودہ نظام موثر طریقے سے کام کر رہا ہے یا نہیں۔
فیاضی نہیں، ذمہ داری
ٹرن ٹو نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ وہاں خالص ہجرت کی شرح کم ترین سطح پر ہے لیکن اس کے باوجود تقریباً نصف آبادی کا خیال ہے کہ ملک میں امیگریشن بے قابو ہو چکی ہے۔
جرمنی اور سویڈن جیسے ممالک نے بڑی تعداد میں مہاجرین کو پناہ دی ہے اور وہاں بھی ان لوگوں کے لیے عوامی حمایت نسبتاً مضبوط ہے، تاہم ترکیہ اور پولینڈ میں یہ حمایت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کچھ کم ہو گئی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مہاجرین کی میزبانی صرف میزبان ممالک کی فیاضی پر نہیں چھوڑی جا سکتی بلکہ یہ پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ فیاضی کبھی بھی عالمی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
مہاجرین کے ہمدرد نوجوان
21 ہزار 500 سے زیادہ افراد سے بات چیت پر مبنی جائزے کے مطابق، نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی (1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) مہاجرین کے بارے میں بڑی عمر کے افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ مثبت رائے رکھتی ہے۔
ان میں سے تقریباً نصف کا ماننا ہے کہ مہاجرین کامیابی کے ساتھ میزبان معاشروں میں ضم ہو سکتے ہیں جبکہ بیبی بومرز (1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) میں یہ شرح صرف 39 فیصد ہے۔
'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، نوجوانوں میں سرحدیں بند کرنے کی حمایت یا مہاجرین کے ارادوں پر شک کرنے کا رجحان بھی نسبتاً کم ہے تاہم مختلف عمر کے تمام گروہوں میں کسی نہ کسی حد تک انضمام، سرحدی انتظام اور پناہ کی درخواستوں کی صداقت سے متعلق خدشات موجود ہیں۔
مہاجرت کے حامی ممالک
جائزے کے مطابق، مہاجرین کے حق میں سب سے زیادہ عوامی حمایت سویڈن اور نیدرلینڈز میں دیکھی گئی جہاں 78 فیصد افراد نے ان کے حق پناہ کی تائید کی۔ اس کے بعد سپین مین یہ شرح 76 فیصد رہی۔
اسی طرح، آسٹریلیا، برازیل اور امریکہ کے عوام نے مہاجرین کے معاشرے میں کامیاب انضمام کے فوائد کے بارے میں سب سے زیادہ مثبت رائے کا اظہار کیا۔
کئی ممالک میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی۔ مثال کے طور پر جاپان میں پناہ کے حق کی حمایت 2019 کے 23 فیصد سے بڑھ کر 64 فیصد ہو گئی جبکہ فرانس میں یہی شرح 43 فیصد سے بڑھ کر 68 فیصد تک پہنچ گئی۔
لوگ کیا چاہتے ہیں؟
جب جائزے میں مختلف مہاجرین کے بحرانوں کے حوالے سے لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ ان کے لیے کس طرح کے ردعمل کو ترجیح دیتے ہیں تو اکثریت نے فوری انسانی امداد کو اولین ترجیح قرار دیا۔ اس کے ساتھ سفارتی کوششوں اور عارضی تحفظ کے اقدامات کو بھی اہم سمجھا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ مہاجرین کے تحفظ کے لیے صرف مستقل آبادکاری ہی واحد راستہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ دیگر متبادل طریقے بھی اختیار کیے جائیں، تاہم انتہائی کمزور اور زیادہ خطرات سے دوچار مہاجرین کے لیے نو آباد کاری آج بھی ایک نہایت اہم حفاظتی ذریعہ ہے۔
پناہ گزینوں سے متعلق کنونشن کی منظوری کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ڈومینیک ہائیڈ نے کہا ہے کہ دنیا کے بہت سے لوگ محفوظ پناہ حاصل کرنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پناہ کا نظام منصفانہ، موثر اور بہتر انداز میں چلایا جائے۔