انسانی کہانیاں عالمی تناظر

برطانیہ: خواتین کے تحفظ سے متعلق ہدایات پر عوامی ردعمل قابل تشویش

غروب آفتاب کے وقت لندن میں دریا کے کنارے پیدل چلنے والے لوگوں کے سلیوٹس۔
© Unsplash/Kid Circus خواتین اور لڑکیوں کے لیے مخصوص مقامات اور خدمات طویل عرصہ سے ان کے تحفظ کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں.

برطانیہ: خواتین کے تحفظ سے متعلق ہدایات پر عوامی ردعمل قابل تشویش

خواتین

خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی خصوصی اطلاع کار ریم السالم نے برطانیہ میں خواتین کے تحفظ سے متعلق جاری کردہ نئی رہنما ہدایات کی سیاسی مخالفت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برطانیہ کے مساوات و انسانی حقوق کمیشن (ای ایچ آر سی) کی یہ رہنمائی اپریل 2025 میں ملکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد جاری کی گئی ہے جس میں مساوات ایکٹ 2010 کے تحت جنس کی قانونی تشریح کو واضح کیا گیا تھا۔

Tweet URL

اطلاع کار کا کہنا ہے کہ، 'ای ایچ آر سی' کے جاری کردہ ضابطہ عمل کے مسودے پر عوامی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ اب بھی کس قدر نازک ہے اور ان کے تحفظ، رازداری اور وقار کے حقوق کی کس قدر آسانی سے مخالفت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپریل 2025 میں قانون کی تشریح واضح کر دی تھی جبکہ 'ای ایچ آر سی' کا ضابطہ عمل سرکاری اداروں، آجروں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی رہنمائی کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ موجودہ قانونی فریم ورک پر درست انداز میں عمل کر سکیں۔ تاہم، مایوس کن طور سے بعض سیاسی حلقے ایسی رہنمائی کی مخالفت کر رہے ہیں جس کا مقصد صرف قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔

خواتین کے تحفظ کا اہم ذریعہ

ریم السالم نے کہا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے مخصوص مقامات اور خدمات طویل عرصہ سے ان کے تحفظ کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں رازداری، وقار اور مردوں کی جانب سے تشدد کے خطرات موجود ہوں۔

انسانی حقوق کا بین الاقوامی قانون ریاستوں کو اختیار دیتا ہے کہ اگر کسی جائز مقصد کے حصول اور خواتین کو مساوی انسانی حقوق فراہم کرنے کے لیے ضرورت ہو تو وہ جنس کی بنیاد پر مخصوص اقدامات اختیار کر سکتی ہیں۔

اگر کوئی حکومت ایک طرف خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عزم ظاہر کرے اور دوسری طرف قانون کے تحت خواتین کے لیے قائم کردہ مخصوص مقامات کی مخالفت کرے تو دونوں موقف بیک وقت درست قرار دینا مشکل ہے۔ لہٰذا، خواتین کو مردوں کے تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جنس کی بنیاد پر قائم حفاظتی انتظامات عملاً رہیں۔

جنس سے متعلق معلومات کی طلبی

رہنما ہدایات کے اس حصے پر بھی بحث جاری ہے جس میں بعض حالات میں کسی شخص کی جنس کے بارے میں معلومات طلب کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔

ریم السالم نے کہا ہے کہ جنس ایک معروضی حقیقت ہے جو بہت سے قانونی اور سماجی معاملات میں اہمیت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے مواقع پر جہاں قانون صرف خواتین یا صرف مردوں کے لیے مخصوص مقامات، خدمات یا تنظیموں کی اجازت دیتا ہے۔

جو شخص کسی مخصوص جنس کے لیے مختص جگہ یا خدمت تک رسائی چاہتا ہے وہ دراصل یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اسی زمرے سے تعلق رکھتا ہے جس کے لیے وہ سہولت قائم کی گئی ہے۔ تاہم ضروری حالات میں جنس کے بارے میں معلومات کی فراہمی میں کوئی قباحت نہیں۔ 

قانون کی پاسداری کا مطالبہ

اطلاع کار نے کہا ہے کہ صرف خواتین کے لیے مخصوص مقامات کئی برسوں سے اس قانونی نظام کا حصہ ہیں جس کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کا تحفظ ہے۔ ان کا مقصد کسی کو بلاوجہ خارج کرنا نہیں بلکہ خواتین کی رازداری، وقار اور سلامتی جیسے جائز اور اہم مقاصد کا تحفظ کرنا ہے۔ ان قانونی تحفظات کا احترام ہر شخص کو کرنا چاہیے۔

ریم السالم نے برطانوی حکومت اور ملک میں مقامی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دوٹوک انداز اعلان کریں کہ اس معاملے میں قانون بالکل واضح ہے اور اس پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے۔

انہوں نے سیاسی رہنماؤں، ذرائع ابلاغ، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی پر بھی زور دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایسے تعمیری انداز میں عمل کریں جو نہ صرف برطانیہ کے قانون بلکہ انسانی حقوق سے متعلق اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بھی مطابقت رکھتا ہو۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔