یمن: فریقین اقوام متحدہ کے ثالثی عمل کے ساتھ تعاون کریں، خالد خیاری
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا گیا ہے کہ یمن کی حالیہ صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ملکی بحران کا کوئی عسکری حل نہیں اور یہ ایک جامع اور یمنی عوام کے زیر قیادت مسلسل سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری نے یمن کی صورتحال پر بلائے گئے کونسل کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات کے ذریعے طے پانے والا سیاسی سمجھوتہ ہی یمنی تنازع کے دیرپا اور پائیدار حل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں تعمیری انداز میں شریک ہوں۔ یہ مذاکرات نہ صرف کشیدگی میں کمی لانے بلکہ فضائی آمدورفت کو محفوظ، قابل اعتماد اور بحال رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
خالد خیاری نے بتایا کہ 3 جولائی کو ایران کا ایک طیارہ تہران سے صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچا اور بعد ازاں واپس تہران روانہ ہوگیا۔ آج بھی تشویشناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ تہران سے واپس آنے والے حوثی وفد کو لے کر ایک ایرانی طیارہ الحدیدہ ہوائی اڈے پر اترا ہے۔ یمن میں حوثیوں کے زیرقبضہ دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گزشتہ روز فضائی حملے کیے گئے ہیں جن کا الزام حوثیوں نے سعودی عرب پر عائد کیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ یمنی حکومت پہلے ہی ایران کو خبردار کر چکی تھی کہ وہ اجازت کے بغیر یمن کے لیے پروازیں نہ چلائے۔
تقسیم سے گریز کی اپیل
خالد خیاری نے کہا کہ اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں صنعا اور اردن کے دارالحکومت عمان کے درمیان تجارتی پروازیں بحال ہوئیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فریقین نیک نیتی سے مذاکرات کریں اور ایک دوسرے کے لیے لچک دکھائیں تو امن کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔
انہوں نے علاقائی کشیدگی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی تشویش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی انتہائی خطرناک ہے لہٰذا تمام فریق فوری طور پر حالات کو معمول پر لانے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔
خالد خیاری کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے 73 اہلکاروں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور سفارت خانوں سے وابستہ متعدد افراد حوثیوں کی ناجائز حراست میں ہیں جنہیں فوری، محفوظ اور غیرمشروط طور پر رہا کیا جائے۔
بھوک کا بدترین بحران
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے قائمقام اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اندریکا رتواتی نے کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یمن میں انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے جبکہ بڑھتی ضروریات پوری کرنے کی عالمی صلاحیت میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن بیک وقت غذائی عدم تحفظ، موسمیاتی کیفیت ایل نینو کے زرعی پیداوار اور لوگوں کے روزگار پر متوقع منفی اثرات اور انسانی امداد کے لیے مالی وسائل میں غیر معمولی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
غذائی تحفظ کے اشاریے بھی انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اس وقت ملک میں ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگ بھوک کا شکار ہیں جن میں سے بڑی تعداد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہے۔ غذائی قلت لاکھوں بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کی زندگیوں کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔
طبی نظام پر شدید دباؤ
اندریکا رتواتی نے کونسل کو بتایا کہ یمن میں صحت کا نظام کئی برسوں سے وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے جبکہ انسانی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ امدادی ادارے اس شعبے کی مدد کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں تاہم وسائل کی کمی ان کوششوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ گزشتہ سال ہی 76 ہسپتالوں سمیت 450 طبی مراکز بند ہو گئے تھے۔
بہت سے خاندان اس اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں کہ انہیں خوراک اور دوا، بچوں کو تعلیم دلانے یا انہیں محنت مزدوری کے لیے بھیجنے اور اپنے گھروں میں رہنے یا نقل مکانی کرنے میں سے ایک انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی امدادی تنظیمیں اور یمن کے لوگ سخت مشکلات کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن مالی وسائل کی کمی نے انہیں اپنے پروگرام محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اندریکا رتواتی نے واضح کیا کہ یمن کا انسانی بحران خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے الگ نہیں ہے۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور کمزور طبقات پر پڑ رہا ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ یمن کے اندر یا خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تو اس کے فوری اور نہایت سنگین انسانی نتائج برآمد ہوں گے جن میں مزید نقل مکانی، درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹوں جیسے مسائل شامل ہیں۔