انسانی کہانیاں عالمی تناظر

عالمی جرائم کے محاسبہ میں عالمی فوجداری عدالت اہم، اقوام متحدہ

لوگ ہیگ میں بین الاقوامی مجرمانہ عدالت کی عمارت کے داخلی دروازے پر جمع ہو رہے ہیں، جس کے سامنے عدالت کے لوگو کے ساتھ ایک بڑا نیلا بینر ہے۔
International Criminal Court ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقعہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی عمارت۔

عالمی جرائم کے محاسبہ میں عالمی فوجداری عدالت اہم، اقوام متحدہ

جرائم کی روک تھام اور قانون

اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ سنگین بین الاقوامی جرائم کے مرتکب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور ان کا احتساب یقینی بنانے کی عالمی کوششوں میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اہم کردار ہے۔

ادارے کا یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بعض حلقوں کی جانب سے اس عدالت کو ختم کرنے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے 'آئی سی سی' کو ختم کرنے کے بارے میں دیے گئے بیان پر کہا ہے کہ اگرچہ یہ عدالت اقوام متحدہ کے سیکرٹریٹ سے الگ اور خودمختار ادارہ ہے، تاہم یہ بین الاقوامی نظام انصاف کا نہایت اہم ستون ہے۔ 

نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر مارکو روبیو کے بیان بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بہت سے رکن ممالک عدالت کے حامی ہیں جو نسل کشی، جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جارحیت کے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلاتی ہے اور ان سے جوابدہی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مارکو روبیو کا بیان

مارکو روبیو نے امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اپنے ملک کی قومی خودمختاری اور آزادی پر زور دیتے ہوئے لکھا ہے امریکہ نے کبھی ایسی عالمی عدالت کو تسلیم نہیں کیا جو اس کے اپنے عدالتی نظام اور آئین سے بالاتر ہو۔ اس حوالے سے ایک سفارتی مہم شروع کی جا رہی ہے جس کا پیغام 'عالمی نظام پر خودمختار ریاستوں کی بالادستی' ہے۔ 

کچھ عرصہ قبل امریکہ نے 'آئی سی سی' کے نو عہدیداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں جن میں عدالت کے جج، چیف پراسیکیوٹر اور نائب پراسیکیوٹر بھی شامل تھے۔ یہ پابندیاں اس لیے لگائی گئیں کہ عدالت افغانستان میں امریکی فوج اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم سے متعلق تحقیقات کر رہی تھی۔ واضح رہے کہ امریکہ میثاق روم کا فریق نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ عدالت قائم کی گئی تھی۔

مارکو روبیو نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ آزادی امریکیوں کی پیدائشی میراث ہے اور ان کا ملک اسے بین الاقوامی قانون کے نام پر خود ساختہ مقتدر طبقے کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ 

بین الاقوامی نظام کو خطرہ

ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا سیکرٹری جنرل اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کا منشور اسی نوعیت کا نظام ہے جسے مارکو روبیو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کا منشور اور انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ خودمختار رکن ممالک ہی نے تشکیل دیے تھے۔

ان اصولوں اور معاہدوں نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو تحفظ فراہم کیا ہے اور جیسا کہ سیکرٹری جنرل بارہا کہہ چکے ہیں، آج یہ نظام خطروں اور حملوں کی زد میں ہے۔