یو این اداروں کا آبنائے ہرمز کشیدگی ختم کرنے کے لیے سفارتکاری پر زور
امریکہ اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور اس پر اپنے کنٹرول کے دعووں کے بعد اقوام متحدہ کے اداروں نے فریقین سے فوری طور پر حالات کو معمول پر لانے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے گزشتہ روز امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کی ضرورت پر زور دیے جانے کے بعد بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کی کونسل نے اپنے 137ویں اجلاس کے اختتام پر آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں کی سخت مذمت کی اور کشیدگی میں فوری کمی لانے کا مطالبہ کیا۔
کونسل نے ایک قرارداد میں زور دیا ہے کہ بین الاقوامی جہازرانی کے لیے استعمال ہونے والی آبی گزرگاہوں میں سفر کو کسی صورت خطرے میں نہیں ڈالا جانا چاہیے اور نہ ہی اس میں رکاوٹ، تعطل یا پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
'آئی ایم او' نے واضح کیا ہے کہ ساحلی ممالک اہم بحری راستوں میں جہازوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے کوئی اقدامات کریں تو وہ محفوظ بحری سفر کے بین الاقوامی کنونشن (ایس او ایل اے ایس)اور 'آئی ایم او' کے دیگر متعلقہ ضوابط کے مطابق ہونے چاہییں۔
کونسل نے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بین الاقوامی جہاز رانی کو درپیش حالیہ مسائل کے حوالے سے زور دیا کہ ساحلی ممالک کے مابین کوئی بھی بندوبست اس بات کی ضمانت دے کہ تمام جہازوں کو 1968 میں طے پانے والے 'آئی ایم او' کے منصوبے کے تحت بلاامتیاز اور بلا رکاوٹ گزرنے کا حق حاصل رہے۔
امریکہ اور ایران کا متضاد موقف
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی اور امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی دوبارہ ناکہ بندی کرے گا۔ علاوہ ازیں، امریکہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تمام سامان پر بطور محافظ 20 فیصد فیس وصول کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ محصول سمندری راستے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
اس کے جواب میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ صدر ٹرمپ بالکل درست کہہ رہے ہیں، تاہم ایران انصاف سے کام لیتے ہوئے اس راستے سے گزرنے والے جہازوں سے اس سے کم شرح پر فیس وصول کرے گا۔
ٹول ٹیکس کی مخالفت
'آئی ایم او' کی کونسل نے اپنے بیان میں توثیق کی ہے کہ بین الاقوامی قانون، بشمول 1948 کے 'آئی ایم او کنونشن' کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کے ٹول ٹیکس یا اضافی محصولات عائد نہیں کیے جا سکتے۔
کونسل نے اپنے سیکرٹری جنرل سے کہا ہے کہ وہ محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کریں اور ساحلی ممالک، دیگر رکن ممالک اور بحری صنعت کے تعاون سے ایسے اقدامات کریں جن سے اس اہم گزرگاہ سے بلا رکاوٹ جہازرانی بحال ہو سکے۔
بحران کے انسانی اور معاشی اثرات
سوئزرلینڈ میں قائم 'بحرانوں کا تجزیہ کرنے والے ادارے (اے کیپس) کی جانب سے 10 جولائی کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر میں انسانی اور معاشی سطح پر شدید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق، فروری سے آبنائے میں تقریباً مسلسل تعطل نے دنیا بھر میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ تنازع شروع ہونے کے بعد دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں 24 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اندازہ ہے کہ رواں سال کھاد کی قیمتیں 30 فیصد سے زیادہ بڑھ جائیں گی۔
یہ صورت حال 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والے قیمتوں کے عالمی بحران سے مشابہ ہے جس کے اثرات کئی ممالک کی معیشتوں پر آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے کہا ہے کہ افریقہ کے ممالک میں اس بحران کے اثرات مجموعی قومی پیداوار، غذائی نظام اور سرکاری مالیات پر بدستور نمایاں ہیں۔ خدشہ ہے کہ ان سے ترقیاتی عمل پر بھی طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔