انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایل نینو کے ممکنہ متاثرین کے لیے یو این کی 100 ملین ڈالر امدادی تیاریاں

مویشیوں کا ایک ریوڑ ایک کھیت میں کھڑا ہے، جو طلوع آفتاب یا غروب آفتاب کے وقت چمکدار سورج اور سنہری، دھندلے آسمان کے سامنے کھڑا ہے۔
© WMO/Guillaume Louÿs ال نینو کے باعث دنیا کے مختلف خطوں میں شدید خشک سالی، تباہ کن سیلاب اور سخت گرمی کی لہریں آنے کا خدشہ ہے۔

ایل نینو کے ممکنہ متاثرین کے لیے یو این کی 100 ملین ڈالر امدادی تیاریاں

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ نئی ایل نینو موسمی کیفیت کے باعث لاطینی امریکہ، مشرقی و جنوبی افریقہ، ایشیا اور الکاہل کے خطوں میں شدید خشک سالی، تباہ کن سیلاب اور سخت گرمی کی لہریں آنے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ادارہ 100 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر نے خبردار کیا ہے کہ آنے والا ایل نینو 2023 سے 2024 کے دوران آنے والی اسی موسمی کیفیت سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ 

گزشتہ ایل نینو کے نتیجے میں کروڑوں افراد کو خوراک، غذائیت، صاف پانی، صفائی کی سہولتوں، طبی خدمات، زرعی معاونت اور تحفظ جیسی بنیادی ضروریات کے لیے انسانی امداد درکار تھی۔

ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ یہ بحران ایسے وقت جنم لے رہا ہے جب دنیا پہلے ہی وسیع پیمانے پر تنازعات، نقل مکانی اور ایندھن، کھاد اور خوراک کی بلند قیمتوں کا سامنا کر رہی ہے جن سے کمزور ترین لوگوں پر اضافی بوجھ آ رہا ہے۔ دوسری جانب، انسانی امداد کا عالمی نظام بھی مالی وسائل میں شدید کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔

حفاظتی اقدامات کے لیے امداد

اقوام متحدہ اپنے مرکزی ہنگامی فنڈ(سی ای آر ایف) کے ذریعے پیشگی حفاظتی اقدامات کے تحت چھ ممالک کے لیے 20 ملین ڈالر سے زیادہ امداد مختص کر چکا ہے۔ 

ٹام فلیچر نے قدرتی آفات سے پہلے حفاظتی اقدامات پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آفات آنے سے پہلے تیاری کرنا نقصان کے بعد امدادی کارروائیاں کرنے کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ موثر بلکہ کہیں زیادہ کم خرچ بھی ہوتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہےکہ دنیا کو یا تو آفات کا انتظار کرنا ہو گا یا لوگوں اور معاشروں کی مضبوطی پر سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ عالمی برادری بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لوگوں کی موثر مدد یقینی بنائے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مزید جراتمندانہ اقدامات کیے جائیں۔