پائیدار ترقی کی کوششیں اہم دور میں داخل، عمل اور عزم کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) کی جانب نمایاں پیش رفت دیکھنے کو ملی ہے لیکن حالیہ برسوں میں اس راہ پر کڑی رکاوٹیں آئی ہیں اور اب اس سفر کا سب سے مشکل مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
انہوں نے 'پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق اعلیٰ سطحی سیاسی جائزہ فورم' کے وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کے بعد دوسرے بحران نے ان اہداف کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔ تنازعات بڑھتے جا رہے ہیں، عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہے، دولت اور اختیار چند ہاتھوں میں مرتکز ہو رہے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ طویل عرصہ سے جاری مصائب، عدم استحکام اور نقل مکانی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث شہریوں اور شہری تنصیبات پر پڑنے والے اثرات، ایندھن، کھاد اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی تجارت، نقل و حمل اور سیاحت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے زور دیا کہ غزہ، لبنان اور خلیجی خطے میں جنگ بندی کے معاہدوں کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح، بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری آمدورفت کے حقوق اور آزادی کا احترام بھی ضروری ہے۔
سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ 'ایس ڈی جی' کے 139 ذیلی اہداف میں سے صرف 36 فیصد ایسے ہیں جن کی جانب پیش رفت درست سمت میں یا معتدل ہے جبکہ 15 فیصد اہداف کے معاملے میں ترقی معکوس کی صورتحال ہے۔ ان حالات میں غیر معمولی رفتار سے نمایاں پیش رفت ضروری ہے۔
زیر جائزہ 5 اہداف
امسال اس فورم میں پائیدار ترقی کے 17 اہداف میں سے پانچ کا بطور خاص جائزہ لیا جا رہا ہے جو درج ذیل ہیں:
- ہدف 6: صاف پانی اور حفظان صحت
- ہدف 7: کم خرچ اور ماحول دوست توانائی
- ہدف 9: صنعت، جدت اور بنیادی ڈھانچہ
- ہدف 11: پائیدار شہر اور آبادیاں
- ہدف 17: اہداف کے حصول میں شراکت داری
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ دنیا چھٹے ہدف کے حصول سے بہت دور ہے۔ آج بھی 2.2 ارب افراد پینے کے محفوظ پانی سے محروم ہیں جبکہ 3.5 ارب افراد کو صفائی ستھرائی کی سہولیات میسر نہیں۔
انہوں نے ساتویں ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے پاس اب ایسا متبادل راستہ موجود ہے جس کے ذریعے معدنی ایندھن پر انحصار ختم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماحول دوست توانائی پر ہر پانچ ڈالر کی سرمایہ کاری میں سے چار ڈالر ترقی یافتہ ممالک اور چین میں خرچ ہوتے ہیں جبکہ افریقہ کو اس سرمایہ کاری کا صرف دو فیصد حصہ ملتا ہے۔
نوویں ہدف پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، ترقی کو تیز کرنے، باعزت روزگار پیدا کرنے اور عوامی خدمات تک رسائی بڑھانے کے بے شمار مواقع فراہم کر رہی ہے۔
گیارہویں ہدف سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عالمی رہائشی بحران سے نمٹنے اور ایسے شہر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو تمام سہولیات سے آراستہ، محفوظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوں۔
سترہویں کے بارے میں ان کا کہنا تھا، یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ حکومتیں تنہا ترقی کا عمل آگے نہیں بڑھا سکتیں۔ پائیدار ترقی کے لیے تمام فریقوں کی مشترکہ کوشش ناگزیر ہے۔
اقوام متحدہ کی اہمیت
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے اپنے خطاب میں شرکا پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی صلاحیت پر اعتماد برقرار رکھیں، روزانہ امید اور عمل کا انتخاب کریں اور اپنی کمزوریوں کو پائیدار ترقی کے اہداف کی کمزوری کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ ہونے دیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ 'ایس ڈی جی' کا حصول آسان نہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ ایسے ہی مشکل مواقع کے لیے وجود میں آیا تھا جب دنیا کو مختلف راستوں میں سے درست راہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
انہوں نے فورم کو ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں، بہترین طریقہ ہائے کار کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کہ پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب ہونے والی پیش رفت لوگوں کی روزمرہ زندگی میں کس طرح بہتری لا رہی ہے۔
اجتماعی کوششوں کی ضرورت
اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل(ایکوسوک) کے زیر اہتمام منعقدہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ادارے کے صدر لوک بہادر تھاپا نے کہا کہ رواں سال 36 ممالک نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول سے متعلق اپنی پیش رفت کے بارے میں رضاکارانہ قومی جائزےپیش کیے ہیں۔ اگرچہ مختلف ممالک مختلف النوع حالات سے دوچار ہیں لیکن سبھی کو ایک جیسے سوالات کا سامنا ہے کہ:
- پائیدار ترقی کے لیے وسائل کہاں سے آئیں؟
- اداروں کو کیسے مضبوط بنایا جائے؟
- نوجوانوں کے لیے بہتر مواقع کیسے پیدا کیے جائیں؟ اور
- ترقی کا سفر جاری رکھتے ہوئے معاشروں کو زیادہ مضبوط اور باصلاحیت کیسے بنایا جائے؟
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے کامیابی کا معیار تقاریر نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی ہونی چاہیے۔ دنیا بھر کی خواتین، بچوں، نوجوانوں اور محروم طبقات میں امید اور اعتماد پیدا کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ تحفظ، وقار اور بہتر مواقع کے لیے عالمی نظام کی طرف دیکھتے ہیں۔
نوجوانوں کی آواز
فورم میں بچوں اور نوجوانوں کے نمائندے ینگ جی وان چوئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ جن افراد کی نمائندگی کر رہے ہیں ان میں سے بیشتر کو کبھی اس عمارت میں آ کر اپنی بات کہنے کا موقع نہیں ملتا۔
انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات، اقوام متحدہ کے امن و سلامتی کے نظام کو مزید موثر بنانے، تنازعات کی روک تھام، ثالثی و پائیدار امن کے اقدامات کو مضبوط کرنے اور پائیدار ترقی کے پانچوں زیربحث اہداف کی جانب موثر پیش رفت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔