انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان: سینتیس لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے خطرے کا سامنا، یونیسف

افغانستان کے جلال آباد میں ڈبلیو ایف پی کے تعاون سے قائم ہزار شاہی ہیلتھ کلینک میں نیلے رنگ کے برقعے میں ملبوس ایک ماں بچے کو گلے لگائے ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا کھڑا ہے۔
© WFP /Isheeta Sumra افغانستان کے علاقے جلال آباد میں عالمی ادارہ خوراک کے تحت چلنے والا ایک مرکز صحت۔

افغانستان: سینتیس لاکھ بچوں کو غذائی قلت کے خطرے کا سامنا، یونیسف

انسانی امداد

عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 37 لاکھ بچے غذائی عدم تحفظ، ناقص خوراک اور بنیادی سہولیات تک ناکافی رسائی کے باعث غذائی قلت کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔

اس مسئلے پر یونیسف کی جاری کردہ رپورٹ بعنوان 'بہت کم، بہت تاخیر سے: افغانستان میں کم عمر بچوں کو درپیش غذائی بحران' میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی بہت بڑی تعداد میں غذائی قلت کی انتباہی علامات سامنے آ رہی ہیں جن میں غذائی تنوع کی کمی، کھانے کے اوقات چھوڑ دینا، بچوں کا ضرورت سے کم کھانا یا بھوکا رہ جانا شامل ہیں۔

Tweet URL

دو سال سے کم عمر بچے اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ شدید غذائی قلت کا شکار 83 فیصد اور درمیانے درجے کی غذائی قلت میں مبتلا 77 فیصد بچے عمر کے اسی حصے میں ہیں۔ 

شدید جسمانی کمزوری غذائی قلت کی سب سے فوری، نمایاں اور جان لیوا شکل ہے جو خوراک کی کمی، بیماری یا بیک وقت دونوں عوامل کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا بچے اپنی عمر اور قد کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر دبلے پتلے ہو جاتے ہیں اور ان کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ جسمانی و ذہنی نشوونما میں رکاوٹ، مختلف بیماریوں حتیٰ کہ موت کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

26 صوبوں میں شدید بحران

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک جولائی سے ستمبر تک جاری رہنے والے شدید کمزوری کے موسمی دور میں داخل ہو رہا ہے۔  تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں افغانستان کے 34 میں سے 26 صوبوں میں صورتحال مزید بگڑ گئی ہے جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ بحران نہ صرف وقت سے پہلے شروع ہو گیا ہے بلکہ مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔

یونیسف نے پہلی مرتبہ افغانستان کے تمام صوبوں میں ایک ہی عمر کے بچوں کے حوالے سے اس قدر وسیع جائزے کا انعقاد کیا ہے جس میں ان کے خاندانوں کو درپیش غذائی عدم تحفظ اور غذائیت سے متعلق حالات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔

اس تحقیق کا مقصد یہ ہے کہ بچوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہونے اور فوری علاج کی ضرورت پیش آنے سے پہلے ہی خطرے کی علامات کو دیکھا جا سکے۔

غذائی قلت کے خلاف سرمایہ کاری

افغانستان میں یونیسف کے نمائندے ڈاکٹر تاج الدین ایویوالے نے کہا ہے کہ کم عمر بچے شدید کمزوری کا موسمی دور شروع ہونے سے پہلے ہی غذائی قلت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

جب خاندان کھانوں کی تعداد کم کرنا شروع کر دیتے ہیں یا غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم ہونے لگتے ہیں تو یہ صرف معاشی بدحالی کی علامت نہیں ہوتی بلکہ اس بات کا واضح اشارہ ہوتا ہے کہ کوئی بچہ جلد ہی خطرناک حد تک شدید کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔

اگرچہ علاج سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں لیکن روک تھام پر سرمایہ کاری کرنا بھی ضروری ہے اور اس کا آغاز کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کو بہتر غذا کی فراہمی سے ہونا چاہیے۔

طبی سہولیات کی شدید کمی

رپورٹ کے مطابق، ایسے گھرانے جو شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں ان کے بچوں میں شدید کمزوری کا خطرہ غذائی اعتبار سے نسبتاً محفوظ خاندانوں کے بچوں کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف غذائیت سے متعلق خدمات کافی نہیں ہوں گی۔

ناقص غذا اور بڑھتے غذائی عدم تحفظ کے ساتھ بیماریوں کے پھیلاؤ، حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں کمی، صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کی ناکافی سہولیات نیز مالی وسائل اور طبی سامان کی بڑھتی ہوئی قلت بھی بچوں کی صحت کو کمزور کر رہی ہے۔

وقت کم، مقابلہ سخت

یونیسف نے شدید کمزوری کے موسم کی آمد کے پیش نظر حکومتوں اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری مدد فراہم کریں تاکہ کم عمر بچوں کی غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں اور مزید بچوں کو غذائی قلت سے بچایا جا سکے۔

اس مقصد کے لیے ادارے نے اپنے فرسٹ فوڈز انیشی ایٹو کو مزید وسیع کرنے اور اس میں بالخصوص چھ سے 23 ماہ تک عمر کے بچوں کو ترجیح دینے، غذائی خدمات کو مضبوط بنانے اور بچوں کی غذائی ضروریات کے مطابق بنیادی سہولیات کو بہتر طور پر مربوط کرنے پر زور دیا ہے۔

ادارے نے واضح کیا ہے کہ بحران کو مزید سنگین ہونے سے پہلے ہی روکنے کے لیے فوری اور کثیرالمقاصد مالی معاونت ناگزیر ہے تاکہ ضرورت مند گھرانوں تک بروقت مدد پہنچائی جا سکے۔