پاکستان: یو این اداروں کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے شراکت میں توسیع
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی)، عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستان میں غریب گھرانوں کی مالی امداد کے منصوبے (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام) کے ساتھ شراکت میں تین سالہ توسیع کا اعلان کیا ہے جس سے مزید 33 لاکھ خواتین اور بچوں کو غذائی قلت سے تحفظ ملے گا۔
اس شراکت کے تحت ملک بھر میں قائم 802 مراکز حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین اور دو سال سے کم عمر بچوں کو غذائیت اور صحت کی خدمات فراہم کررہے ہیں جبکہ نئی توسیع کے بعد اس سے مستفید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 80 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
2020 تک یہ شراکت بینظیر نشوونما پروگرام کے لیے مہیا کی جا رہی تھی جسے اُس سال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ضم کر دیا گیا۔ اس پروگرام سے اب تک 47 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا ہے کہ غذائیت پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے تاکہ ہر بچے کو زندہ رہنے، نشوونما پانے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق ترقی کرنے کا موقع مل سکے۔ یونیسف حکومت کے ساتھ یہ تعاون جاری رکھے گا۔
شراکت کے مثبت نتائج
پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 40 فیصد یا تقریباً ایک کروڑ بچے دائمی غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اسی طرح 17.7 فیصد بچوں کو شدید غذائی کمی کا سامنا ہے جن کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے۔ غذائی قلت کے باعث پاکستان کو ہر سال17 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
'بینظیر انکم سپورٹ پروگرام' کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالدنے کہا ہے کہ اس پروگرام کی رسائی اور تاثیر کو بڑھانے کے لیے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان میں ہر بچے کو صحت مند زندگی کے آغاز کا موقع ملے۔
اس شراکت کا مقصد پروگرام کو مزید مستحکم کرنا ہے جس نے غذائی قلت کی روک تھام کے ضمن میں نمایاں نتائج دیے ہیں۔ پروگرام میں شامل بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک قد کے لحاظ سے نشوونما میں کمی کا خطرہ 22 فیصد کم دیکھا گیا۔ اس پروگرام سے ماؤں کی غذائی حالت میں بہتری آئی، بچوں کی بقا کی شرح میں اضافہ ہوا اور بعداز پیدائش بچوں کی صحت کے حوالے سے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا عزم
پاکستان میں 'ڈبلیو ایچ او' کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈا پینگ نے کہا ہے کہ ادارہ پاکستان کو بہتر طبی اور غذائی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔ پروگرام کے مثبت نتائج اس بات کا ثبوت ہیں کہ صحت، غذائیت، سماجی تحفظ، صاف پانی و صفائی، خوراک اور تعلیم کے شعبوں میں مربوط اور سائنسی بنیادوں پر کیے گئے اقدامات موثر ثابت ہوتے ہیں۔
اس پروگرام کے تحت حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارے غذائیت اور صحت کی خدمات کو مضبوط کرنے کمزور خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور پاکستان کے لیے صحت مند اور مضبوط مستقبل کی تعمیر کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔