انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشرق وسطیٰ: یو این چیف کی امریکہ اور ایران سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل

ایرانی ریڈ کرسنٹ سوسائٹی کے دو بچاؤ کارکنوں نے نارنجی یونیفارم میں ایک تباہ شدہ عمارت کے اندر ملبے کی تلاش کی۔
© IRCS ایران میں امدادی کارکن ایک بم زدہ عمارت سے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں (فائل)۔

مشرق وسطیٰ: یو این چیف کی امریکہ اور ایران سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مشرق وسطیٰ میں جاری خطرناک کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف حملے فوری طور پر روک دیں۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تمام فریقین سے کہا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کو بڑھانے والے اقدامات سے گریز کریں اور حالات کو فوری طور پر معمول پر لانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔

Tweet URL

انہوں نے خبردار کیا ہےکہ دوبارہ جنگ چھڑ گئی تو اس کے نہ صرف خطے کے لوگوں بلکہ پوری دنیا اور عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے جن سے بچنے کے لیے فریقین فوری طور پر مذاکرات دوبارہ شروع کریں اور اختلافات کو سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے حل کریں

جنگ کا بڑھتا ہوا خدشہ

ایران اور امریکا کے درمیان ایک مرتبہ پھر حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہونے سے علاقے میں مکمل جنگ کے خدشات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں جبکہ امریکہ نے ایران کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس نے اتوار کو آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے ہفتے کو ایران میں 140 اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے میں سفر کرتے ایک بحری جہاز پر حملے کے جواب میں کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق، ایران نے اتوار کو اردن میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر متعدد حملے کیے جبکہ متحدہ عرب امارات، بحرین، عمان اور کویت نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ان کی سرزمین پر میزائل اور ڈرون داغے گئے ہیں۔

آزادانہ جہاز رانی کی بحالی کا مطالبہ

حالیہ کشیدگی اور گزشتہ ماہ طے پانے والی جنگ بندی ختم ہونے کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت ایک مرتبہ پھر معطل ہو گئی ہے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی بحال ہونی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ منگل کو اس آبی گزرگاہ میں تین تجارتی بحری جہاز حملوں کی زد میں آئے۔ 

تقریباً 6 ہزار ملاح اب بھی خلیج فارس میں بیسیوں تجارتی جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) نے زور دیا ہے کہ جب تک مناسب حفاظتی حالات بحال نہیں ہو جاتے اس وقت تک آبنائے ہرمز سے ہر طرح کی بحری آمدورفت سے گریز کیا جائے۔