خانہ جنگی سے تباہ حال سوڈان میں ہیضے سے 100 افراد ہلاک
جنگ سے تباہ حال سوڈان میں ہیضے کی جان لیوا وبا پھوٹ پڑی ہے جس کے نتیجے میں اب تک 100 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے محصور شہر العبید سمیت تمام غیرمحفوظ آبادیوں کے بارے میں سخت تشویش پیدا کر دی ہے جہاں روزانہ ڈرون حملے امدادی سرگرمیوں میں مسلسل رکاوٹ بن رہے ہیں۔
سوڈان میں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے ڈاکٹر شبلی سہبانی نے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں ہیضہ دوبارہ پھیل رہا ہے اور اس نے کئی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جن میں دارفور اور کردفان کے علاقے خاص طور پر نمایاں ہیں۔
اب تک ہیضے کے 1,330 سے زیادہ مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 114 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اگرچہ ہیضہ قابل علاج اور قابل انسداد بیماری ہے لیکن بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
بے گھر آبادی کو خطرہ
- سوڈان میں جاری جنگ کے باعث ضروری طبی سہولیات اور امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔
- آئندہ آنے والا برسات کا موسم وبا کو مزید خطرناک بنا سکتا ہے۔
- لاکھوں بے گھر لوگ پہلے ہی انتہائی غیر محفوظ حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔
امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہیں اس بات پر بھی شدید تشویش ہے کہ شمالی کردفان کے شہروں اور دیہی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد میں یہ بیماری تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
وسطی سوڈان میں واقع شمالی کردفان اس وقت سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) اور اس کی مخالف نیم عسکری تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف)کے درمیان شدید لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ڈینگی، ملیریا اور خسرہ کا پھیلاؤ
ڈاکٹر سہبانی نے بتایا کہ ہیضے سے اموات کی شرح پہلے ہی 13.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ جب بارشوں کا موسم شروع ہوگا تو صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
سوڈان کو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران درپیش ہے جہاں تین کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگ انسانی امداد کے محتاج ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ 10 لاکھ افراد کو فوری طبی خدمات کی ضرورت ہے۔
اگرچہ دارالحکومت خرطوم سمیت بعض علاقوں میں حالات قدرے بہتر ہونے کے بعد کچھ لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹے ہیں، تاہم ایک کروڑ 34 لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ ان میں 90 لاکھ نے سوڈان کے اندر جبکہ 46 لاکھ نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔
ہیضے کے علاوہ ملک میں ڈینگی، ملیریا، گردن توڑ بخار، ہیپاٹائٹس ای، خسرہ اور دیگر متعدی بیماریوں کی وبائیں بھی پھیل رہی ہیں۔
امدادی وسائل کی اپیل
'ڈبلیو ایچ او' نے العبید میں 25 ہزار سے زیادہ لوگوں کے لیے طبی سامان پہلے ہی ذخیرہ کر رکھا ہے، تاہم ڈاکٹر سہبانی نے اعتراف کیا ہے کہ یہ کافی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ادارے نے جنوبی کردفان کے شہروں قدوگلی اور دلنگ میں 8.5 ٹن طبی سامان پہنچایا ہے۔ یہ دسمبر 2024 کے بعد پہلا موقع ہے کہ رسائی میں رکاوٹوں کے باوجود ادارے کی کوئی امدادی کھیپ اس علاقے میں پہنچی ہے۔
انہوں نے شراکت داروں اور عطیہ دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ امدادی وسائل مہیا کریں تاکہ العبید میں ضرورت کے مطابق طبی سامان اور دیگر امداد پہنچائی جا سکے۔