انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ترقی پذیر ممالک میں قرض معافی کے عوض فروغ تعلیم کا مطالبہ

اسکول یونیفارم میں ایک نوجوان لڑکی باہر لکڑی کی میز پر لیپ ٹاپ کا استعمال کرتے ہوئے اور ائرفون پہنے میز پر نوٹ بکس کے ساتھ بیٹھی ہے۔ ترتیب ایک دیہی علاقہ ہے جس کے پس منظر میں سرسبز درخت ہیں۔
© UNFPA/Neloy Reja گزشتہ چند برس سے تعلیم کے لیے ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں قرض معافی کے عوض فروغ تعلیم کا مطالبہ

ثقافت اور تعلیم

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو) نے عالمی مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیم کے عوض قرض کی معافی جیسے پروگراموں کو وسعت دیں کیونکہ بہت سے ترقی پذیر ممالک بچوں کی تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر کہیں زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔

یونیسکو کی جاری کردہ نئی رپورٹ بعنوان 'نقصان کی گنتی' میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم کے لیے بیرونی امداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے، اس لیے تعلیم کے عوض قرض کی معافی کا طریقہ کار ترقی پذیر ممالک کے لیے موثر متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔

Tweet URL

اس نظام کے تحت قرض دینے والا ملک یا ادارہ کسی ملک کا کچھ قرض معاف کر دیتا ہے لیکن اس کے بدلے قرض لینے والے ملک کو اتنی ہی رقم اپنے ہاں تعلیم کے فروغ پر خرچ کرنا ہوتی ہے۔ اس طرح مالی مشکلات کے باوجود تعلیمی اخراجات کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی نے کہا ہے کہ تعلیم وہ سب سے طاقتور سرمایہ کاری ہے جو کوئی ملک اپنے مستقبل کے لیے کر سکتا ہے۔

امداد میں کمی کی وجوہات

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چند برس سے تعلیم کے لیے ترقیاتی امداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کو 2023 سے 2027 کے درمیان تعلیم کے شعبے کے لیے ملنے والی بین الاقوامی امداد میں تقریباً 30 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 2023 سے 2025 کے دوران تعلیم کے لیے عالمی امداد میں آٹھ فیصد جبکہ بنیادی تعلیم کے لیے امداد میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2025 میں امریکہ نے اپنی مجموعی غیر ملکی امداد میں 57 فیصد، یورپی یونین نے 14 فیصد اور جاپان نے 6 فیصد کمی کی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ امداد میں اس نمایاں کمی کی بڑی وجوہات میں امریکہ کے مرکزی امدادی ادارے 'یو ایس ایڈ' کی سرگرمیوں کا محدود یا ختم ہونا، کووڈ 19 وبا کے طویل المدتی اثرات، توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ماحول دوست توانائی کے منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی جانا شامل ہیں۔

اس امداد میں کمی سے نکاراگوا، ویتنام، افغانستان، موریطانیہ اور ہونڈوراس سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

یونیسکو کی سفارشات

یونیسکو نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ قرض کی معافی کے بدلے تعلیم کا طریقہ کار ہر ملک کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا تاہم پیرو، مصر اور آئیوری کوسٹ میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

ادارے نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض لینے کی لاگت کم کی جائے، تعلیمی نظام کو بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جائے، اور جہاں ممکن ہو حکومتیں اپنے قومی بجٹ سے تعلیم پر زیادہ سرمایہ کاری کریں۔