یو این کا ایرانی نیوکلیئر مسئلے کے پرامن اور پائیدار حل پر زور
قیام امن و سیاسی امور کے لیے اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل میں اس اپیل کو دہرایا ہے کہ ایرانی جوہری مسئلے کے تمام فریقین نیک نیتی سے اور تعمیری انداز میں مذاکرات کریں تاکہ اس معاملے کا پرامن، جامع اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
انہوں نے سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام پر بریفنگ دیتے ہوئے قرارداد 2231 (2015) پر عملدرآمد سے متعلق سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کا جائزہ پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) نے بتایا ہے کہ اس نے ایران میں کسی بھی مقام پر تصدیقی سرگرمیاں انجام نہیں دیں جبکہ ایسا کرنا جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے(این پی ٹی) کے تحت حفاظتی اقدامات معاہدے کا تقاضا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ یہی معاہدہ ماضی میں ادارے کو مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کے تحت ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد کی نگرانی اور تصدیق کا اختیار فراہم کرتا رہا ہے۔
روزمیری ڈی کارلو نے یہ بھی بتایا کہ 'آئی اے ای اے' کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ادارے کی ایران سےمعلومات کے مسلسل حصول کی صلاحیت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ حملے 28 فروری 2026 کو شروع ہوئے جن کے نتیجے میں ادارہ ایران کی تمام اعلان شدہ جوہری تنصیبات کے بارے میں اپنی مسلسل معلوماتی نگرانی برقرار نہیں رکھ سکا۔
مذاکرات کے لیے فریم ورک
انڈر سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ قرارداد 2231 اور 'جے سی پی او اے' کے مستقبل کے حوالے سے فریقین کے درمیان اب بھی نمایاں اختلافات موجود ہیں، تاہم تمام فریقین نے مسئلے کے سفارتی حل کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے اور اس مقصد کے لیے مذاکرات میں شریک ہونے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 17 جون کو اسلام آباد میں دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت میں جوہری امور سے متعلق کئی اہم نکات شامل ہیں جن پر امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔ مزید مذاکرات کے لیے ایک موثر فریم ورک کی تشکیل ایرانی جوہری مسئلے کے پرامن حل کی جانب ایک نہایت اہم قدم ہے اور اقوام متحدہ ان کوششوں میں ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔
روس اور چین کا اعتراض
روس اور چین کی جانب سے قررداد 2231 کو غیر فعال قرار دیے جانے اور اجلاس بلانے پر اعتراض کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس طریقہ کار سے متعلق رائے شماری کے بعد منعقد ہوا کہ طریقہ کار سے متعلق معاملات پر ویٹو کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس موقع پر اجلاس جاری رکھنے کے حق میں 11 ووٹ آئے جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
قرارداد 2231 کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام پر 2015 میں طے پانے والے معاہدے (جے سی پی او اے) سے ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران اس معاہدے سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔