سری لنکا جیل میں تشدد اور ہلاکتوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے سری لنکا کی ایک جیل میں ہونے والے ہلاکت خیز تشدد اور دیگر جیلوں میں قیدیوں کے خلاف سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ انتقامی کارروائیوں کی اطلاعات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے قانون کی عملداری قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دفتر کی ترجمان روینہ شمداسانی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیگومبو شہر کی جیل میں پیش آنے والے اس واقعے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے درجنوں قیدیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خاندان حقیقت سے آگاہی اور انصاف کے حصول کا حق رکھتے ہیں۔ ان واقعات کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
اطلاعات کے مطابق، دو روز قبل پیش آنے ان واقعات میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ یہ تشدد اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سری لنکا میں حراستی نظام سے متعلق بنیادی اور دیرینہ مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔ ان مسائل میں مقدمات کے فیصلے سے قبل طویل حراستیں، جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی اور حراستی مراکز میں ناکافی سہولیات خاص طور پر نمایاں ہیں۔
کمیشن کی رسائی
مزید برآں، منشیات سے متعلق مقدمات میں لوگوں کی بڑی تعداد کو قید کیا جا رہا ہے حالانکہ ان میں سے بہت سے افراد کو جیل بھیجنے کے بجائے صحت اور بحالی پر مبنی اقدامات سے فائدہ پہنچایا جانا چاہیے۔
ترجمان نے ان واقعات کی تحقیقات کرانے کے حوالے سے حکام کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ تحقیقات بروقت، آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور مکمل طور پر شفاف ہونی چاہئیں۔
انہوں نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ سری لنکا کے کمیشن برائے انسانی حقوق کو نیگومبو جیل سمیت ملک کی تمام جیلوں اور ان حراستی مراکز تک بلا رکاوٹ رسائی فراہم کریں جہاں قیدیوں کو منتقل کیا گیا اور انہیں مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔