یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی ماحول اور معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی
امسال موسم گرما میں یورپ کے مختلف علاقوں میں پڑنے والی غیر معمولی گرمی نے لاکھوں افراد کی زندگی کو متاثر کیا اور حدت، خشک سالی اور جنگلاتی آگ نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔
یورپی یونین کی 'کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس' کے مطابق، جون مغربی یورپ کی تاریخ کا گرم ترین جبکہ دنیا بھر میں دوسرا گرم ترین جون تھا۔ مغربی یورپ کا اوسط درجہ حرارت 1991 تا 2020 کی اوسط کے مقابلے 3.05 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا جبکہ سمندری سطح کا درجہ حرارت بھی جون کے مہینے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
سپین کے شہر بارسلونا میں 'فابرا آبزرویٹری' کے مطابق 8 جولائی کو علاقے کا درجہ حرارت 40.05 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ میں وہاں کا بلند ترین درجہ حرارت ہے۔ فرانس نے اپنی تاریخ کا گرم ترین دن دیکھا جبکہ جرمنی کے 252 موسمیاتی مراکز پر اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
شدید گرمی اور خشک سالی نے فرانس اور جزیرہ نما آئبیریا میں جنگلاتی آگ کو مزید بھڑکا دیا جبکہ یورپ کے کئی حصوں میں خشک سالی کے خطرات بھی بڑھ گئے۔
خاموش اور مہلک
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، شدید گرمی دنیا کے مہلک ترین مگر کم توجہ پانے والے خطرات میں شامل ہے۔ اندازوں کے مطابق، 2000 سے 2019 کے درمیان ہر سال تقریباً 489,000 افراد گرمی سے متعلقہ وجوہات کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔
معمر افراد، بچوں، حاملہ خواتین، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو گرمی سے خطرہ کہیں زیادہ ہوتا ہے تاہم طویل عرصہ تک جاری رہنے والی شدید گرمی کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق خطرہ صرف دن کی گرمی تک محدود نہیں۔ جب رات کے وقت درجۂ حرارت 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہ آئے تو جسم کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا اور صحت کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
بروقت آگاہی اہم
عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کے ماہر جان کینیڈی کے مطابق، شدید گرمی کی ایسی لہریں بدلتے ہوئے موسم کی متوقع حقیقت ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 1976 کے بعد یورپ کا اوسط درجۂ حرارت تقریباً 2.00 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے جس کے باعث یہ دنیا کا انتہائی تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن گیا ہے۔
اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے 'ڈبلیو ایم او'، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور دیگر شراکت دار پیشگی انتباہی نظام اور شدید گرمی سے نمٹنے کے منصوبوں کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو اس موسمیاتی خطرے سے بروقت خبردار کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ دنیا مسلسل 11 گرم ترین برس دیکھ چکی ہے اور موسمیاتی آفات پہلے سے کہیں زیادہ تواتر، زیادہ شدت اور زیادہ تباہی کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو شدید گرمی مستقبل میں مزید زندگیوں، معیشتوں اور قدرتی وسائل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔