انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سربرنیکا نسل کشی عالمی ضمیر پر بوجھ اور اس سے انکار اسی کا تسلسل، یو این

برف سے ڈھکے قبرستان میں سفید قبروں کے پتھروں کی قطاریں، پس منظر میں پہاڑ۔
United Nations/Darko Zecevic سربرنیکا نسل کشی میں مارے گئے مردوں اور لڑکوں کی قبروں پر لگے کتبے۔

سربرنیکا نسل کشی عالمی ضمیر پر بوجھ اور اس سے انکار اسی کا تسلسل، یو این

انسانی حقوق

اقوامِ متحدہ نے 8 جولائی کو سربرنیکا قتل عام میں ہلاک ہونے والے آٹھ ہزار سے زیادہ بوسنیائی افراد کی یاد میں تقریب منعقد کی جس میں کہا گیا کہ نسل کشی کے واقعات سے انکار دراصل نسل کشی کا تسلسل ہوتا ہے۔

موجودہ بوسنیا ہرزیگووینا کے مشرقی علاقوں میں جولائی 1995 میں ہونے والا یہ قتل عام ہولوکاسٹ کے بعد یورپی سرزمین پر نسل کشی کی سب سے بڑی کارروائی تھی۔ اس دوران بوسنیائی سرب فوج نے سلامتی کونسل کی قرارداد 819 (1993) کے تحت محفوظ قرار دیے گئے علاقے سربرنیکا پر قبضہ کر لیا۔ مقامی آبادی نے اقوم متحدہ کے مرکز میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن سرب فوج نے مردوں اور لڑکوں کو ان کے خاندانوں سے الگ کر کے ہلاک کر ڈالا۔

Tweet URL

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) اور سابق یوگوسلاویہ کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل(آئی سی ٹی وائی) قرار دے چکے ہیں کہ سربرنیکا میں کیے گئے جرائم نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

اقوام متحدہ دوسرے سال اس نسل کشی کی یاد اور اس کے اسباب و نتائج پر غور کا عالمی دن منا رہی ہے۔ نسل کشی کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر چلوکا بیانی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ قتل عام عالمی برادری، اقوام متحدہ اور جدید دنیا کی تاریخ کے اجتماعی ضمیر پر بھاری بوجھ رہے گا۔

انہوں نے متاثرین کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کی اپیل کی۔

دنیا کی اجتماعی ذمہ داری

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے ان کے چیف آف کیبنٹ کورٹنی ریٹری نے ان کا پیغام سناتے ہوئے کہا کہ سربرنیکا کے بعد دنیا نے عہد کیا تھا کہ اب ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن آج ایک مرتبہ پھر اظہار نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے امتیاز، انتہا پسندی اور تقسیم کو ہوا مل رہی ہے جبکہ جنگی جرائم میں سزا یافتہ لوگوں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان خطرناک اشاروں سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ دنیا کو بروقت اقدام کرنا ہو گا کیونکہ پیشگی روک تھام ہی مشترکہ ذمہ داری اور نسل کشی کے خلاف سب سے موثر تحفظ ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ سربرنیکا، روانڈا اور دیگر واقعات سے ثابت ہے کہ نسل کشی اجتماعی قبروں سے شروع نہیں ہوتی بلکہ نفرت، امتیازی سلوک، لوگوں کو ہم اور وہ میں تقسیم کرنے کی سوچ اور ایسی پالیسیوں اور زبان سے شروع ہوتی ہے جو انسانوں سے عزت و وقار چھین لیتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دوبارہ کبھی نہیں' محض نعرہ نہ رہے بلکہ ایسا وعدہ بنے جسے دنیا واقعتاً پورا کرے۔

نسل کشی سے انکار، ایک نیا خطرہ

بوسنیا ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈینس بیچیرووچ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی قانون کی حرمت اور عالمی اداروں کے وقار کا دفاع پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ عدالتوں کے فیصلوں سے ثابت شدہ حقائق کو سیاسی مصلحتوں کی نذر ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ 

بوسنیائی مسلمانوں کے خلاف نسل کشی سے انکار ایک غیر مہذب اور انسانیت دشمن عمل ہے۔ یہ ہلاک ہونے والوں کی توہین اور زندہ بچ جانے والوں کے لیے ایک نیا خطرہ ہے۔

نیویارک میں ایک تقریب کے دوران انسان United Nations لوگو کے ساتھ ایک پوڈیم پر خطاب کر رہا ہے۔
UN Photo/Eskinder Debebe سربرنیکا میموریل سینٹر کے حسن حسنوچ۔

جدائی، خوف اور بقا کی جدوجہد

حسن حسنووچ کی عمر صرف 19 برس تھی جب 11 جولائی 1995 کو سربرنیکا پر بوسنیائی سرب فوج نے قبضہ کیا۔ وہ اپنے والد اور جڑواں بھائی حسین کے ساتھ ان مردوں اور لڑکوں کے قافلے میں شامل تھے جو جنگل کے راستے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

چند ہی گھنٹوں میں وہ اپنے والد اور بھائی سے بچھڑ گئے اور کئی روز تک خوف کے عالم میں تنہا اور بھوکے پیاسے بھٹکتے رہے جہاں ہر طرف گھات، فائرنگ، قتل اور توپ خانے کے حملوں کا خطرہ تھا۔

آج وہ اقوام متحدہ میں سربرنیکا میموریل سنٹر میں زبانی تاریخ کے پروگرام کی سربراہی کرتے ہیں۔ انہوں نے جنرل اسمبلی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوف ہی وہ واحد چیز تھی جس نے انہیں چلتے رہنے پر مجبور کیے رکھا۔ برسوں بعد جب ان کے والد اور جڑواں بھائی کی باقیات اجتماعی قبروں سے برآمد ہوئیں تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں دفن کیا۔ 

UN سیکرٹری جنرل ایمینا سینانوویچ نیویارک میں UN سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ایک پوڈیم پر تقریر کر رہی ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe امینہ سینانووچ کے مطابق نسل کشی قتل عام پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہ مستقبل بھی چھین لیتی ہے۔

نفرت اور بے رحمی کی دیوار

امینہ سینانووچ کی عمر پانچ سال تھی جب انہوں نے سربرنیکا قتل عام میں اپنے والد، دادا اور چچا کو کھو دیا۔

انہوں نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بہت سے لوگوں کے لیے سربرنیکا محض تاریخ کا ایک باب ہے مگر ان کے لیے یہ زندگی کا ہر دن ہے۔ یہ ایسی ان دیکھی دیوار ہے جو انہیں ان کے والد سے جدا رکھتی ہے۔ یہ دیوار نفرت اور بے رحمی نے تعمیر کی۔

انہوں نے کہا کہ نسل کشی قتل عام پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ یہ مستقبل بھی چھین لیتی ہے، یہ گلے لگانے کے لمحوں کو چھین لیتی ہے، یہ وہ الفاظ چھین لیتی ہے جو آپ کبھی سن نہیں سکیں گے، یہ وہ یادیں بھی چھین لیتی ہے جنہیں آپ کو کبھی بنانے کا موقع نہیں ملے گا۔

امینہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ ایسے واقعات کے وجود سے انکار کیے جانے پر خاموش تماشائی نہ بنا جائے کیونکہ نسل کشی سے انکار دراصل نسل کشی ہی کا تسلسل ہوتا ہے۔