انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بچوں کے حقوق پر بیشتر ایشیائی کاروباروں کے قول و فعل میں تضاد، یونیسف

ٹوکیو، جاپان کا فضائی منظر، دریائے سمیڈا، ایک بڑی شاہراہ، اور جدید اور رہائشی عمارتوں کا امتزاج دکھا رہا ہے۔
© IMF جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کو کاروباری اداروں کے گڑھ کے حوالے سے ایشیا کا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا ہے۔

بچوں کے حقوق پر بیشتر ایشیائی کاروباروں کے قول و فعل میں تضاد، یونیسف

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ایشیا کے نو ممالک میں 1,399 کاروباری اداروں میں بیشتر انسانی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرتے ہیں لیکن بہت کم ایسے ہیں جو اپنی سرگرمیوں سے بچوں پر پڑنے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات کو سامنے لاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ ایشیا کے بیشتر ممالک کی ایک تہائی آبادی بچوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود کاروباری پائیداری سے متعلق اطلاعات کی فراہمی میں بچوں کو تقریباً نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تضاد خاص طور پر ان شعبوں میں نمایاں ہے جن کا تعلق خطے میں بچوں کو درپیش بڑے مسائل سے ہے۔

ایشیا و الکاہل کے لیے یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر سنجے وجے سیکرا نے کہا ہے کہ پورے ایشیا میں کاروباری پائیداری سے متعلق معلومات کی فراہمی کو دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے فروغ مل رہا ہے۔ لیکن بچوں کے حقوق اب بھی پائیداری کے ان اہم ترین پہلوؤں میں شامل ہیں جن پر معلومات جاری نہیں کی جاتیں۔ 

تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ تقریباً تین چوتھائی کمپنیاں انسانی حقوق سے اپنی وابستگی ظاہر کرتی ہیں جبکہ 88 فیصد ایسی ہیں جو بچوں سے متعلق سماجی سرگرمیوں کو کاروباری فلاحی کاموں کے طور پر بتاتی ہیں۔ ہر 20 میں سے ایک کمپنی ایسی ہے جو بچوں کو اپنے اہم سٹیک ہولڈرز میں شمار کرتی ہے جبکہ ہر 100 میں سے ایک کمپنی یہ جائزہ لیتی ہے کہ اس کے کاروبار کے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دو تھائی بچے کمل کے تالاب میں لکڑی کے ایک چھوٹے بیڑے پر بیٹھے ہیں، بڑے پتوں کو سایہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Arun Roisri بڑھے ہوئے درجہ حرارت سے بچنے کے لیے تھائی لینڈ کے دو بچے کنول کے پتوں سے سر چھپائے ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہیں۔

بچوں کے تحفظ پر معلومات کا اخفا

بہت کم کمپنیاں یہ بتاتی ہیں کہ وہ موسمیاتی تبدیلی، آن لائن خطرات، غذائی قلت، بچہ مزدوری اور والدین کے کام کے حالات جیسے مسائل کے باعث بچوں پر پڑنے والے اثرات اور خطرات سے کیسے نمٹ رہی ہیں۔

صرف دو فیصد کمپنیاں اپنی ماحولیاتی حکمت عملی میں بچوں کا ذکر کرتی ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کی 10 فیصد سے بھی کم کمپنیاں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے اقدامات کی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔ 

تین فیصد کمپنیاں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے والی ذمہ دارانہ تشہیری پالیسیوں پر عملدرآمد کا عزم ظاہر کرتی ہیں۔ حتیٰ کہ خوراک اور مشروبات کے شعبے میں بھی صرف 12 فیصد کمپنیاں ہی حفاظتی پالیسیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔

معاشی و انسانی ترقی پر منفی اثرات

تحقیقی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ 72 فیصد کمپنیاں بچہ مزدوری کے خاتمے کا عزم ظاہر کرتی ہیں، لیکن صرف دو فیصد یہ بتاتی ہیں کہ جب بچوں سے مشقت لینے کے واقعات سامنے آتے ہیں تو وہ ان کا ازالہ کس طرح کرتی ہیں۔ صرف تین فیصد کمپنیاں ایسی ہیں جو خام مال فراہم کرنے والوں کو بہتر طرزعمل اپنانے میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔

کام کی خاندان دوست جگہوں سے متعلق صورت حال نسبتاً بہتر ہے اور اس بارے میں معلومات کی فراہمی زیادہ عام ہے، تاہم کارکنوں کو باوقار معیار زندگی کے مطابق اجرت فراہم کرنے کے واضح وعدے اب بھی بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔

سنجے وجے سیکرا نے کہا ہے کہ یہ خامیاں بچوں کی فلاح و بہبود ہی کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ مستقبل کی افرادی قوت، پیداواری صلاحیت، معاشی ترقی اور انسانی ترقی پر بھی ان کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایشیا ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیارات کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، اسی لیے اس کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کو نظر انداز کیے جانے کا سلسلہ ختم کرے۔

ایک چھوٹا بچہ ورکشاپ میں دھات کے ٹکڑے کو پیس رہا ہے۔
© UNICEF بچہ مزدوری نسل در نسل چلتی ہے۔ ایسے بچوں کو عام طور پر تعلیم تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

یونیسف کی سفارشات

اس حوالے سے ادارے نے حکومتوں اور کاروباری اداروں کو درج ذیل اقدامات کی بطور خاص سفارش کی ہے:

  • کمپنیاں وعدوں تک محدود رہنے کے بجائے اپنے کاروبار کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کریں، ان کا موثر انتظام یقینی بنائیں، ان سے متعلق معلومات فراہم کریں اور اپنی فلاحی سرگرمیوں کو بچوں کی حقیقی ضروریات اور کاروباری اثرات سے ہم آہنگ بنائیں۔
  • حکومتیں اور پالیسی ساز ایسے قوانین، پالیسیوں اور اطلاع کاری کے نظام وضع کریں جن میں بچوں کے حقوق کو لازمی اہمیت دی جائے۔
  • سرمایہ کار اور سٹاک مارکیٹیں بچوں کے حقوق کو بنیادی ماحولیاتی، سماجی اور انتظامی معیار کا حصہ بنائیں، بچوں سے متعلق خطرات اور اثرات کو سرمایہ کاری کی درجہ بندی اور اطلاع کاری میں شامل کریں اور ایسی سرمایہ کاری کو فروغ دیں جو ایشیا میں بچوں کی ترقی میں معاون ثابت ہو۔
  • والدین، صارفین، بچے اور نوجوان اپنی آواز، اپنے انتخاب اور اپنے تجربات کے ذریعے کاروباری اداروں کو جواب دہ بنائیں اور ایسے طریقہ ہائے کار تشکیل دیں جن کے تحت بچوں کا تحفظ اور ان کی بہبود یقینی ہو۔