انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سربرنیکا میں بچ جانے والوں کا نسل کشی سے انکار بارے انتباہ

سریبرینیکا کی یادگار پر آویزاں ایک بڑی تاریخی تصویر، جس میں 1995 کے قتل عام کے زندہ بچ جانے والوں اور متاثرین کو دکھایا گیا ہے۔ نمائش میں معلوماتی ٹیکسٹ پینلز اور ویڈیو اسکرینز شامل ہیں۔
United Nations/Darko Zecevic سربرنیکا میموریل سنٹر میں رکھی ایک تصویر جس میں بوسنیائی مردوں کو خوفزدہ دیکھا جا سکتا ہے۔

سربرنیکا میں بچ جانے والوں کا نسل کشی سے انکار بارے انتباہ

از نیتھن بریرو
انسانی حقوق

جولائی 1995 میں بوسنیا ہرزیگووینا کے شہر سربرنیکا میں ہونے والی نسل کشی میں زندہ بچ جانے والے تین افراد نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ کیسے وہ اس قتل عام میں مارے گئے 8,372 مردوں اور لڑکوں کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور اس سانحے کی حقیقت سے انکار کے رجحان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

تین دہائیاں قبل بوسنیائی سرب افواج نے بوسنیا کے مسلمان مردوں اور لڑکوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام کیا تھا حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس علاقے کو جنگ سے محفوظ قرار دے چکی تھی۔ بعد ازاں، اقوام متحدہ نے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ عالمی برادری سربرنیکا میں نسل کشی کو روکنے میں اجتماعی طور پر ناکام رہی۔

اس سانحے میں زندہ بچ جانے والے تین افراد سربرنیکا میموریل سیٹر میں کیوریٹر اور آرکائیوسٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نسل کشی کی سچی داستان آئندہ نسلوں تک پہنچے۔ یہ یادگاری مرکز اسی جگہ قائم کیا گیا ہے جہاں کبھی ہزاروں لوگوں نے اقوام متحدہ کے امن دستوں کے پاس پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

سیاہ بالوں والی ایک عورت میموریل ہال میں ایک بینچ پر بیٹھی ہے، دیواروں پر سیاہ اور سفید تصویروں سے گھرا ہوا ہے۔
UN News/Nathan Beriro الماسا صالحووچ سربرنیکا میموریل سنٹر کی ترجمان ہیں۔
الماسا صالحووچ

جب سربرنیکا میں نسل کشی ہوئی تو میری عمر صرف آٹھ برس تھی مگر میں زندہ بچ گئی۔ اس سانحے میں میرا بھائی قتل ہوا جبکہ میرے چچا اور ماموں بھی مارے گئے۔ اس نسل کشی میں مجموعی طور پر 8,372 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ 

آزر عثمانووچ

مرکزی سڑک پر ایک چوکی قائم تھی جہاں مردوں اور لڑکوں کو الگ کر دیا جاتا تھا اور بعد ازاں ان میں سے بیشتر کو قتل کر دیا گیا۔

الماسا صالحووچ

میرا یقین ہے کہ یاد رکھنے سے زخم مندمل ہونے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے انسان خود بھی سنبھلتا ہے اور اس کا خاندان بھی۔ جب بھی میں اپنے بھائی یا اپنے خاندان کی کہانی سناتی ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں صرف اپنی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ داستان بیان کر رہی ہوں۔

پانچ سال پہلے میں نے ارادتاً سربرنیکا میموریل سنٹر میں ملازمت اختیار کی کیونکہ میری ہمیشہ یہ خواہش تھی کہ قتل عام کے متاثرین کی یادگار بنانے اور اور اس المیے کی یاد کو زندہ رکھنے کے عمل میں اپنا کردار ادا کروں۔

سریبرینیکا کی نسل کشی میں زندہ بچ جانے والی خاتون کو ایک یادگاری مرکز کے اندر انٹرویو کے دوران دکھایا گیا ہے۔
یو این خبرنامہ/ ناتھن بیریرو عامرہ بیگچ فاضلچ
عامرہ بیگچ فاضلچ

1992 سے 1995 کے درمیان ہم سربرنیکا سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن میں نے 2003 واپس آ کر دوبارہ یہیں زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ ہم میں سے جو بیشتر لوگ واپس آئے ان کا خیال تھا کہ ہمیں اپنے پیاروں کے قریب رہنا چاہیے تاکہ ان کی شناخت کا عمل مکمل ہو، ان کی باقیات کو اسی یادگاری مرکز میں دفن کیا جا سکے اور ہمارے پاس ان کے پاس آنے کی کوئی جگہ موجود ہو۔

آزر عثمانووچ

یہ سانحہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے اور اس بارے میں بات کرنا میرا فرض ہے۔ مجھے سربرنیکا کی نسل کشی اور ان تمام مصائب کے بارے میں بتانا ہے جو ہم نے یہاں سہے۔ یہ صرف میری کہانی نہیں بلکہ ان ہزاروں لوگوں کی داستان ہے جو اس شہر کے محاصرے کے دوران یہاں موجود تھے۔

ہمارے پاس نسل کشی کے متاثرین کی ذاتی اشیا محفوظ ہیں جو اجتماعی قبروں سے ان کی باقیات کے ساتھ برآمد ہوئی تھیں۔ یہ جوتا میرے چچا زاد بھائی کا ہے۔ جب انہیں قتل کیا گیا تو ان کی عمر صرف 16 سال تھی۔ ان کے دونوں بھائی بھی اسی سانحے میں مارے گئے تھے۔

ایک سیاہ کوٹ میں ایک شخص یادگاری آرکائیو میں کھڑا ہے، جس کے چاروں طرف شیلفیں ہیں جن میں سریبرینیکا کے قتل عام کی ذاتی اشیاء موجود ہیں۔
UN News/Nathan Beriro آزر عثمانووچ
الماسا صالحووچ

مجھے سب سے زیادہ خوف اس بات سے آتا ہے کہ لوگ اس نسل کشی سے انکار کرتے ہیں۔ آج میری نسل سے بھی کم عمر نوجوان اس جھوٹے بیانیے کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں کہ یہاں کوئی نسل کشی نہیں ہوئی، کوئی جنگی جرم نہیں ہوا اور جو لوگ ہلاک ہوئے وہ محض سپاہی تھے۔ لیکن اس یادگاری مرکز میں ہم صرف حقائق کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔

عامرہ بیگچ فاضلچ

نسل کشی سے انکار نسل کشی کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج بوسنیا میں ہم اس سے بھی اگلے مرحلے کا سامنا کر رہے ہیں جس میں جنگی مجرموں کی کھلے عام تعریف کی جاتی ہے اور انہیں ہیرو قرار دیا جاتا ہے۔