آبنائے ہرمز میں آمدورفت پھر معطل، سیکڑوں بحری جہاز کشیدگی کا شکار
امریکہ اور ایران کے مابین عسکری کشیدگی دوبارہ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ خلیج فارس میں لنگر انداز سیکڑوں بحری جہازوں پر تقریباً چھ ہزار ملاح پھنسے ہوئے ہیں جبکہ خلیجی ممالک نے مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان نئی عسکری کشیدگی پر اظہار تشویش کے بعد بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او) کی کونسل نے بھی ایران کی جانب سے متعدد خلیجی ممالک اور ان کی علاقائی سمندری حدود میں مبینہ حملوں اور مسلسل دھمکیوں کی مذمت کی ہے۔
'آئی ایم او' نے بحرین، فرانس، جرمنی اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک کی درخواست پر عالمی بحری گزرگاہوں کے تحفظ سے متعلق اجلاس منعقد کیا جس کے بعد ادارے کی کونسل نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ کشیدگی نے بالخصوص آبنائے ہرمز میں بحری تجارت کو شدید متاثر کیا ہے جو توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔
ادارے کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے کہا ہے کہ جب تک ضروری حفاظتی انتظامات مکمل نہیں ہو جاتے اس وقت تک آبنائے ہرمز سے ہر قسم کی آمدورفت سے گریز کیا جائے۔ علاوہ ازیں، سکیورٹی خدشات کے باعث خلیج میں پھنسے ملاحوں کا انخلا فی الوقت ممکن نہیں ہو گا۔
'آئی ایم او' کے مطابق، جنگ بندی کے بعد اب تک 136 بحری جہازوں کو محفوظ مقام تک منتقل کیا جا چکا ہے اور تقریباً 2,900 ملاحوں کو بھی نکال لیا گیا ہے۔
ایران میں شہری ہلاکتیں
ایران کی وزارت صحت کے مطابق، گزشتہ دو روز میں ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک جبکہ ملک کے پانچ صوبوں میں ہونے والے حملوں میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
منگل کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر مبینہ حملوں کے بعد خام تیل کی عالمی قیمتوں میں عارضی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم جمعرات تک قیمتیں کچھ کم ہو کر تقریباً 77 ڈالر فی بیرل پر آ گئیں، تاہم یہ جنگ سے پہلے کی سطح سے اب بھی زیادہ ہیں۔
حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب اطلاعات کے مطابق، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی بحری جہاز حملوں کا نشانہ بنے۔
جنگ بندی معاہدے پر دباؤ
امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والی 14نکاتی مفاہمتی یادداشت میں تمام محاذوں بشمول لبنان میں عسکری کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ حالیہ واقعات کے بعد نازک جنگ بندی دباؤ کا شکار ہے۔
معاہدے کے تحت یہ بھی طے ہوا کہ ایران کی یورینیم افزودگی سمیت دیگر متنازع امور پر حتمی معاہدے کے لیے 60 روز تک مذاکرات کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، ایران کو یہ یقین دہانی بھی کرانا تھی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
یادداشت میں یہ بھی شامل تھا کہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا اور ایران پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔