پاکستان: سندھ میں بچوں کی ابتدائی تعلیم کا بدلتا طریقہ کار
چار سال کے بچے سے تعلیمی میدان میں کیسی صلاحیتوں کی توقع رکھی جا سکتی ہے؟ پاکستان کے صوبہ سندھ میں تدریسی عملے کی تربیت کرنے والی پروین آرائیں ہر نشست کا آغاز اسی سوال سے کرتی ہیں۔
سندھ میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے جہاں بہت سے بچے اپنی عمر کے ابتدائی برسوں میں ٹھوس تعلیمی بنیاد حاصل نہیں کر پاتے۔ تین سے چار سال کی عمر کے نصف سے بھی کم بچوں کی نشوونما درست سمت میں ہوتی ہے تاہم کم عمری کے باعث تعلیمی میدان میں انہیں درپیش کمی آئندہ جماعتوں میں بھی برقرار رہتی ہے۔
سندھ میں سرکاری شعبے میں چلنے والے سکولوں کی تعداد 41 ہزار سے زیادہ ہے لیکن بہت سے کمرہ ہائے جماعت وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ متعدد جماعتوں کو ایک ہی کمرے میں پڑھایا جاتا ہے جبکہ ابتدائی بچپن کی تعلیم کو حالیہ چند برسوں میں ہی پالیسی سازی میں مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔
پروین آرائیں صوبے کے سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے تعاون سے گزشتہ سال اپریل میں شروع کردہ چار سالہ 'سندھ لرننگ پروگرام' کے تحت اساتذہ کے لیے تربیتی عملے کو تربیت دیتی ہیں جس کا مقصد صوبے کے سرکاری تعلیمی نظام کی بنیاد کو مضبوط کرنا ہے۔
تعلیم اور جدید تدریس
'سندھ لرننگ پروگرام' پر ضلع عمرکوٹ، دادو، تھرپارکر اور ٹنڈو اللہ یار میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ پروین آج کل ضلع حیدر آباد میں محکمہ تعلیم کے عملے سے تعلق رکھنے والے 24 افسروں کو تربیتی سیشن میں آگاہی دے رہی ہیں کہ کس طرح محدود وسائل میں رہتے ہوئے بچوں کو معیاری تعلیم دی جا سکتی ہے۔ تربیت پانے والے یہ لوگ 750 سے زیادہ اساتذہ کو تربیت دیں گے جو بعد ازاں ان چار اضلاع میں 30 ہزار سے زیادہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں کردار ادا کریں گے۔
تعلیم کے شعبے میں 15 سے 20 سال کا تجربہ رکھنے والے بہت سے شرکا کے لیے یہ تربیت صرف نئی تدریسی عوامل سیکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ اس سوچ میں تبدیلی کا عمل ہے کہ کم عمر بچے کس انداز سے سیکھتے ہیں۔
پروین آرائیں کہتی ہیں کہ زندگی کے ابتدائی سال وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں آئندہ زندگی کی پوری تعلیمی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ چار سال کا وہ بچہ جو سکول کے صحن سے اٹھائے گئے پتھروں کی مدد سے گنتی سیکھتا ہے، یا کپڑے کے ٹکڑے سے کہانی سناتا ہے درحقیقت تعلیم کے سب سے اہم عمل میں مصروف ہوتا ہے۔
بدلتے کمرہ جماعت
اس چار سالہ پروگرام کے تحت محکمہ تعلیم کے عملے کے 24 ارکان، 150 رہنما اساتذہ، 500 سبجیکٹ کوآرڈینیٹرز اور750 سے زیادہ اساتذہ کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ باالآخر 30 ہزار سے زیادہ بچوں کو معیاری ابتدائی تعلیم دی جا سکے۔ تاہم تبدیلی کے آثار پہلے ہی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ یہ تبدیلی صرف تدریسی طریقوں میں نہیں بلکہ اساتذہ کی سوچ اور بچوں کے سیکھنے کے انداز میں بھی جھلک رہی ہے۔
پروین کہتی ہیں کہ بڑوں کی سوچ بدلنے سے بچوں کے معیار تعلیم پر خاصا فرق پڑتا ہے جس کا منہ بولتا ثبوت سندھ کے کمرہ ہائے جماعت ہیں جو آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایک پتھر، ایک کہانی اور ایک بچے کے ذریعے۔
نوٹ: یہ فیچر پہلے انگریزی میں یہاں شائع ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ سنبل فاطمہ نے کیا ہے۔