وینزویلا زلزلہ: تقریباً 6500 افراد کو ملبےسے زندہ نکالا گیا، فلیچر
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی رابطہ کار ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ تباہ کن زلزلوں سے متاثرہ وینزویلا کے ساتھ دنیا بھر میں جس یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے اسے اب عملی مدد میں بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ بحالی کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔
انہوں نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس سے اقوام متحدہ، برازیل، ترکیہ، امریکہ، وینزویلا اور یورپی کمیشن کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس کے موقع پر ورچوئل بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ لوگ شدید صدمے اور مایوسی کا شکار ہیں۔ 24 جون کو آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں ساڑھے تین ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک اور کم از کم 16 ہزار 740 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 6 ہزار 462 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا گیا ہے۔
جان بچانے والی ہنگامی امدادی اشیا کی بڑی مقدار پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکی ہے، تاہم اب مزید پائیدار، منظم اور مربوط تعاون کی ضرورت ہے۔
'کیا مدد آ رہی ہے؟'
ٹام فلیچر نے اقوام متحدہ اور رکن ممالک کے تقریباً 200 شراکتی اداروں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تلاش اور بچاؤ کارروائیاں اختتام کی جانب بڑھ رہی ہیں لیکن انسانی ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں اور بے شمار متاثرہ علاقوں کو فوری امداد درکار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منگل کو ریاست لاگوائیرا کے دورے میں ان کی ملاقات چند ایسی ماؤں سے ہوئی جو روزانہ اس امید کے ساتھ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے پر واپس آتی ہیں کہ شاید ان کے بچے زندہ مل جائیں۔ گزشتہ رات ان ماؤں نے صرف ایک سوال کیا کہ آیا مدد آ رہی ہے؟
آج کا یہ اجلاس اسی سوال کا جواب ہے اور اس سوال کا صرف ایک ہی جواب ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی اقدامات
انہوں نے یاد دلایا کہ زلزلے کے بعد اسرائیل سے لے کر میکسیکو تک بہت سے ممالک کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر وینزویلا پہنچ گئی تھیں۔ اس وقت زلزلہ متاثرین کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا رہے ہیں:
- پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے طبی سہولیات کی فراہمی۔
- اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت(آئی او ایم) اور پناہ گزینوں کے لیے ادارے (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے پناہ اور تحفظ کی سہولیات کا اہتمام۔
- اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی طرف سے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے اقدامات۔
- عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور ورلڈ سینٹرل کچن سمیت دیگر شراکت داروں کی جانب سے غذائی امداد کی فراہمی۔
- اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) کی جانب سے ملبہ ہٹانے اور طویل المدتی بحالی کی ضروریات کا جائزہ۔
طویل المدتی بحالی اور ترقی
ٹام فلیچر نے کہا کہ ہنگامی امدادی مرحلے سے وسیع تر بحالی کی طرف بڑھتے ہوئے ایک مشترکہ اور مربوط منصوبے کی موجودگی ضروری ہے۔ اجتماعی حکمت عملی میں خوراک، رہائش اور ملبہ ہٹانے جیسی فوری ضروریات کے ساتھ طویل المدتی بحالی اور ترقی کو بھی شامل کرنا ہو گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ زلزلے سے پہلے ہی وینزویلا میں تقریباً 80 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج تھے جس کے باعث حالیہ بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
296 ملین ڈالر کی ضرورت
ٹام فلیچر نے عطیہ دہندگان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے مسلسل تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے رکن ممالک اور عطیہ دہندگان سے تین اہم اقدامات کی اپیل کی:
آئندہ چھ ماہ کے دوران 13 لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کے لیے امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کیا جائے جس کے لیے 296 ملین ڈالر درکار ہیں۔
زلزلے کے بعد ملکی سطح پر لیے گئے جائزے کی بنیاد پر خوراک، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی خدمات میں سرمایہ کاری کی جائے۔
امدادی عطیات کے تسلسل کو یقینی بنایا جائے، ملک پر پابندیوں میں نرمی کی جائے اور اس کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔
بریفنگ کے اختتام پر ٹام فلیچر نے کہا کہ ان ماؤں کے سوال کا عملی جواب دینا ہوگا کہ 'آیا مدد آ رہی ہے'۔ دنیا کو ثابت کرنا ہو گا کہ عالمی یکجہتی آج بھی مضبوط ہے اور زلزلہ متاثرین کی مکمل بحالی تک ان کا ساتھ نہیں چھوڑا جائے گا۔