اسرائیل فلسطینی ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو رہا کرے، یو این کمیشن
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو محفوظ اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔
ڈاکٹر حسام کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے دسمبر 2024 میں گرفتار کیا تھا۔ کمیشن نے دوران حراست ان کے ساتھ مبینہ طور پر مسلسل بدسلوکی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی طبی عملے کی ناجائز گرفتاریاں اور ان کے ساتھ ناروا سلوک بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عالمی قانون کے تحت زیر حراست افراد کو قتل، تشدد، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک اور جنسی تشدد سے تحفظ ملنا چاہیے۔
کمیشن نے کہا ہے کہ اس نے پہلے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کا طبی عملے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا اور ان کے ساتھ بدسلوکی کرنا، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔ اسرائیل میں جیل حکام کے مبینہ اقدامات ایسے خدشات کو جنم دیتے ہیں جوعالمی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
ناقابل تلافی انسانی نقصان
کمیشن نے اپنی سابقہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد صحت کے نظام کو نشانہ بنائے جانے کے باعث فلسطینی ضروری طبی سہولیات سے محروم رہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ناقابل تلافی انسانی نقصان ہوا۔
کمیشن نے اسرائیلی حکام سے ڈاکٹر حسام سمیت ناجائز طور پر زیر حراست تمام فلسطینیوں کو رہا کرنے اور بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی مکمل پاسداری کرنے کے لیے کہا ہے ۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ احتساب کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قانون کی مبینہ پامالیوں کی تحقیقات، ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور متعلقہ عدالتی اداروں کو شواہد کی فراہمی جاری رکھے گا۔