لبنان: فریقین کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری، یونیفیل
لبنان اور اسرائیل کے درمیان واقع بلیو لائن پر اگرچہ جنگ کی شدت میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ کشیدگی 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی بمباری کے بعد مزید بڑھ گئی تھی۔
سلامتی کونسل کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کے مطابق لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ یونیفل کی ترجمان کینڈِس آرڈیل نے کہا ہے کہ تشدد کی شدت میں کمی ضرور آئی ہے لیکن وہ اب بھی روزانہ کی بنیاد پر قرارداد 1701 کی خلاف ورزیاں کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ امن کار رابطے اور باہمی تعاون کے ذریعے حالیہ استحکام کو بہتر کرنے اور بلیو لائن کے دونوں جانب رہنے والے تمام لوگوں کے لیے امن و سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لڑائی میں کمی کے بعد جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں، تاہم انہیں اب بھی بے شمار مشکلات کا سامنا ہے۔ مجدل زون، کفرہ اور صور سمیت کئی قصبوں اور دیہاتوں میں شدید گولہ باری نے علاقے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ کئی مکانات، سکول اور ایک طبی مرکز ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
بلیو لائن ہی تسلیم شدہ سرحد
اسرائیلی فوج کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد ’ییلو لائن‘ کے بارے میں کینڈس آرڈیل کا کہنا تھا کہ یہ اسرائیلی فوج کی خود ساختہ حد بندی ہے جو بلیو لائن سے تقریباً پانچ سے دس کلومیٹر شمال تک پھیلی ہوئی ہے جسے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا اقوام متحدہ اور یونیفل کے لیے صرف بلیو لائن ہی متعلقہ حد بندی ہے۔ بلیو لائن کے شمال میں اسرائیلی فوج کی کسی بھی قسم کی موجودگی قرارداد 1701 کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے۔
بلیو لائن کے دونوں اطراف خصوصاً جنوبی لبنان میں شہریوں کی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ کینڈِس آرڈیل کے مطابق 2023، 2024 اور رواں سال نقل مکانی کی متعدد لہروں کے بعد حالیہ مہینوں میں اپنے گھروں کو واپس آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، لیکن واپسی پر انہیں ایک ایسی حقیقت کا سامنا ہے جو ان کے چھوڑے ہوئے ماحول سے یکسر مختلف ہے۔
منہدم گھر، تباہ حال بستیاں
ان کے مطابق لوگ ایسے دیہات میں واپس آ رہے ہیں جو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ وہ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں ٹوٹی پھوٹی بنیادی سہولیات، پانی اور بجلی کی محدود فراہمی، ہسپتالوں اور سکولوں تک ناکافی رسائی جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے۔
دوسری جانب بلیو لائن کے قریب واقع کئی دیہاتوں کے رہائشی غیر یقینی سکیورٹی صورتحال کے باعث اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔
ان مشکلات کے باوجود یونیفل مقامی آبادی کی ہر ممکن مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے امن اہلکار مرجعیون ہسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے خون کے عطیات کا انتظام کر رہے ہیں جبکہ صور میں استنبول تھیٹر کو بچوں کے کھلونے اور دیگر ضروری سامان بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔
نقل و حرکت پر پابندیاں
اس سوال پر کہ کیا یونیفل کے امن کار آزادانہ طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دے پا رہے ہیں، کینڈِس آرڈیل نے بتایا کہ گشت اور نگرانی کا عمل جاری ہے، تاہم بعض رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ مواقع پر اسرائیلی فوج نے ناکہ بندی، ٹینکوں یا دیگر فوجی گاڑیوں کے ذریعے امن کاروں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی ہے، تاہم ایسی رکاوٹیں عموماً زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی سڑکیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے کے باعث بند ہیں جبکہ بہت سے علاقوں میں موجود ان پھٹے گولہ بارود کو پہلے ہٹانا ضروری ہوتا ہے تاکہ امن کار محفوظ طریقے سے آگے بڑھ سکیں۔