ایران جنگ: آبنائے ہرمز میں تازہ کشیدگی سے عالمی منڈیوں میں تشویش
آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر دوبارہ حملوں نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی بحری ادارے (آئی ایم او) نے متحارب فریقین سے تحمل، کشیدگی میں کمی لانے اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔
'آئی ایم او' کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز نے آبنائے سے گزرنے والے متعدد بحری جہازوں پر حملوں کو 'لاپرواہانہ' قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے ایک مرتبہ پھر بے گناہ ملاحوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کسی فرد کو محض اپنا فرض ادا کرنے کی وجہ سے جان کا خطرہ لاحق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے جہازوں کے ممالک، مالکان اور انہیں چلانے والی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملاحوں کو غیر ضروری خطرات سے دوچار نہ کریں اور انہیں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر مجبور کرنے سے گریز کریں۔
تیل کے تزویراتی ذخائر کی قلت
اس وقت تقریباً چھ ہزار ملاح سیکڑوں بحری جہازوں پر اس آبنائے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ماضی میں یہاں سے روزانہ تقریباً 130 بحری جہاز گزرتے تھے۔ اگرچہ حالیہ دنوں جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی آ چکی ہے، تاہم گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی عارضی جنگ بندی کے بعد بحری نقل و حمل میں کچھ بہتری آئی تھی۔ حالیہ کشیدگی نے اس پیش رفت کو دوبارہ متاثر کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے یورپی اقتصادی کمیشن (یو این ای سی ای) نے کہا ہے کہ خلیجی خطے سے توانائی حاصل کرنے والے ممالک کو درپیش مشکلات بدستور برقرار رہیں گی کیونکہ سپلائی میں رکاوٹوں کو 100 روز سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔
کمیشن میں شعبہ توانائی، رہائش اور زمینی انتظام کے ڈائریکٹر ڈیریو لیگوٹی نے توقع ظاہر کی ہے کہ توانائی کی قیمتیں آئندہ کئی ماہ تک بلند رہیں گی جبکہ مقامی منڈیوں میں رسد کے مسائل بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ دنیا کو ایندھن اور کھاد کی شدید قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن اس سال پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات محسوس ہوتے رہیں گے چاہے حالات جلد ہی معمول پر کیوں نہ آ جائیں۔
انہوں نے یو این نیوز سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کے تزویراتی ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اگر یہ عدم استحکام برقرار رہا تو قیمتوں میں ایک اور اضافے اور خام مال کی وسیع پیمانے پر قلت کے لیے تیار رہنا ہو گا۔
شدید گرمی سے بڑھتے مسائل
حالیہ موسم گرما میں ال نینو موسمی کیفیت کے باعث شدید گرمی کی لہروں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں یہ رجحان مزید تقویت پائے گا جس کے نتیجے میں ٹھنڈک کے لیے توانائی کی طلب میں اضافہ ہو گا، توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ بڑھے گا اور بجلی گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کی دستیابی بھی متاثر ہو گی۔
ڈیریو لیگوٹی نے کہا ہے کہ ان اثرات، بالخصوص عوامی نقل و حمل اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر پڑنے والے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے کو مستقبل کے دھچکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جائے، توانائی کے موثر استعمال کے ذریعے اس کی بچت کی جائے، مجموعی کھپت کم کر کے محدود وسائل پر دباؤ گھٹایا جائے اور ذخائر میں اضافہ کیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ طویل مدتی طور پر بہت سے ممالک توانائی کی مقامی پیداوار، تقسیم کے نظام اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مرتبہ پھر سنجیدہ دلچسپی لے رہے ہیں۔