کینسر سے دنیا میں روزانہ 26000 ہلاکتیں، ڈبلیو ایچ او رپورٹ
عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اگر سرطان (کینسر) کی روک تھام، بروقت تشخیص اور موثر علاج کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک دنیا بھر میں اس بیماری کے نئے مریضوں کی سالانہ تعداد ساڑھے تین کروڑ تک پہنچ جائے گی۔
یہ انتباہ 'ڈبلیو ایچ او' کی نئی رپورٹ کے اجرا پر سامنے آیا ہے جس میں سرطان سے بچاؤ اور علاج کے معاملے میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سرطان دنیا بھر میں روزانہ 26 ہزار سے زیادہ جانیں لے رہا ہے۔ ہر سال اس مرض کے تقریباً دو کروڑ چھ لاکھ نئے مریض سامنے آتے ہیں جن میں ایک کروڑ لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طرح، دل کی بیماریوں کے بعد سرطان دنیا میں اموات کی دوسری بڑی وجہ بن گیا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا ہے کہ سرطان تقریباً ہر خاندان اور ہر فرد کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے۔ لیکن کسی شخص کے زندہ بچنے یا نہ بچنے کا انحصار اس بات پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کس ملک میں پیدا ہوا یا اس کی آمدنی کتنی ہے۔ اس رپورٹ میں سامنے آنے والی عدم مساوات ناگزیر نہیں بلکہ انسانی فیصلوں کا نتیجہ ہے جسے اجتماعی و مضبوط اقدامات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے۔
علاج میں عدم مساوات
رپورٹ کے مطابق، سرطان سے زندہ بچنے کی شرح امیر اور غریب ممالک میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے بعد 87 فیصد خواتین کم از کم پانچ سال تک زندہ رہتی ہیں جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح صرف 42 فیصد رہ جاتی ہے۔
ایک تہائی سے بھی کم ممالک نے سرطان کے علاج کو صحت عامہ کی خدمات کا حصہ بنایا ہے۔ نتیجتاً لاکھوں مریض تشخیص، علاج اور ضروری طبی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔
شدید معاشی اور ذہنی بوجھ
'ڈبلیو ایچ او' کی جانب سے سرطان کے مریضوں کے پہلے عالمی جائزے سے سامنے آیا ہے کہ:
- کم از کم 45 فیصد مریضوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
- نصف سے زیادہ مریض ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
- تمام تیماردار شدید دباؤ کا شکار رہتے ہیں، جنہیں بلا معاوضہ نگہداشت اور سماجی تنہائی جیسے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں۔
اموات میں ایشیا سرفہرست
رپورٹ کے مطابق، 2024 میں سرطان کے مریضوں اور اموات کی نصف تعداد ایشیا میں ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ اس کی وسیع آبادی ہے۔
سرطان کے 21 فیصد مریض اور 20 فیصد اموات یورپ میں ریکارڈ کی گئیں جس سے اس براعظم پر بیماری کے غیر متناسب بوجھ کی عکاسی ہوتی ہے۔
افریقہ اور ایشیا کے بعض حصوں میں اگرچہ سرطان کے مریضوں کی تعداد نسبتاً کم ہے لیکن وہاں اموات کی شرح نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
مہلک ترین سرطان
رپورٹ کے مطابق، پھیپھڑوں کا سرطان دنیا بھر میں اس بیماری سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مردوں میں پھیپھڑوں، خصیوں اور بڑی آنت کا سرطان عام ہے جبکہ خواتین میں چھاتی، پھیپھڑوں اور بڑی آنت کے سرطان کی سب سے زیادہ مریض سامنے آتی ہیں۔
2024 میں تقریباً 24 لاکھ خواتین میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی اور اس بیماری سے 6 لاکھ 94 ہزار خواتین کا انتقال ہوا۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، سرطان کے 40 فیصد کیس ایسے خطرات سے منسلک ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ ان میں تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، غیر متوازن غذا اور ہیومن پیپیلوما وائرس، ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے انفیکشن شامل ہیں۔
کامیابیاں اور مسائل
رپورٹ کے مطابق، اب دنیا کے 82 فیصد ممالک کے پاس سرطان پر قابو پانے کے منصوبے موجود ہیں جبکہ 2010 میں یہ شرح صرف 50 فیصد تھی۔ اگرچہ بیماری سے متعلق سائنسی تحقیق میں تیزی آئی ہے، تاہم ضروری ادویات تک رسائی میں شدید عدم مساوات تاحال برقرار ہے۔
کم اور نچلے متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں سرطان کی ترجیحی ادویات کی دستیابی صرف 9 سے 54 فیصد تک ہے جبکہ امیر ممالک میں یہی شرح 68 سے 94 فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔
مریضوں کا کردار
'ڈبلیو ایچ او' نے زور دیا ہے کہ سرطان سے نمٹنے کی حکمت عملی صرف علاج تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی صحت کے نظام کا مرکزی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
بچپن میں سرطان کا شکار رہنے والی اور 'ڈبلیو ایچ او' کے عالمی جائزے کی سربراہ کلیریسا شلسٹرا نے کہا ہے کہ سرطان صرف طبی تشخیص نہیں بلکہ ایسا تجربہ ہے جو مریض اور اس کے خاندان کی زندگی کے ہر پہلو کو شدید انداز میں اور طویل عرصہ تک متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرطان میں مبتلا رہنے والے لوگوں کو طبی پالیسی سازی کا حصہ بنائیں تاکہ اس مرض کے خلاف مزید منصفانہ، موثر اور انسان دوست نظام قائم کیا جا سکے۔