فرانسیسی فٹبالر امباپے پر نسل پرستانہ حملوں کی کڑی مذمت
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) نے فرانس کے فٹ بال کھلاڑی کیلیان امباپے کے خلاف پیرا گوئے کی سینیٹر کے نسل پرستانہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں نسل پرستی ایک وسیع اور تشویشناک مسئلہ ہے۔
ادارے کے ترجمان ثمین الخیطان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پیراگوئے کی سینیٹر سیلیستے اماریا کا نسل پرستانہ اور انسانیت سوز بیان قابل مذمت ہے اور یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں۔
حالیہ فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران پیش آنے والے متعدد نسل پرستانہ واقعات کی اطلاعات اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ فٹ بال سمیت بہت سے کھیلوں میں یہ مسئلہ بڑے پیمانے پر موجود ہے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بیانات اور طرز گفتگو میں نسل پرستی، امتیازی سلوک اور اظہار نفرت کی کھل کر مخالفت کریں۔
ریاستوں اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری
ریاستوں اور کھیلوں کے اداروں کو چاہیے کہ وہ نسل پرستی اور ہر قسم کے امتیازی سلوک کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں اور ایسے آزاد احتسابی نظام قائم کریں جن کے ذریعے ان واقعات پر جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات کے مطابق اپنے پلیٹ فارمز پر نسل پرستی، نسلی تعصب اور غیر ملکیوں کے خلاف نفرت انگیز طرزعمل اور بدسلوکی کا موثر تدارک یقینی بنائیں۔
ستائیس سالہ امباپے فرانس کی موجودہ فٹبال ٹیم کے کپتان اور سب سے نمایاں کھلاڑی ہیں۔ وہ امریکہ، کینیڈا، اور میکسیکو میں جاری حالیہ ورلڈ کپ میں اب تک سب سے زیادہ گول کرنے والے نمایاں کھلاڑیوں میں بھی شامل ہیں۔