ماہ رنگ بلوچ کی سزا انصاف کا کھلا مذاق، یو این انسانی حقوق ماہرین
اقوام متحدہ کے ماہرینِ انسانی حقوق نے پاکستان میں حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو دہشت گردی اور قتل کے مقدمات میں دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کو دی جانے والی سزا انصاف کا کھلا مذاق ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر ایک غیر منصفانہ مقدمے کے بعد سامنے آیا جس میں انسداد دہشت گردی اور قتل کے الزامات کو پرامن احتجاج، انجمن سازی اور اظہار رائے کی آزادی کے حق کو دبانے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ماہ رنگ بلوچ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی سربراہ ہیں، جو بلوچ قومیت کے لوگوں کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے۔ انہیں کمیٹی کے ایک اور رہنما صبغت اللہ شاہ کے ساتھ جولائی 2024 میں ساحلی علاقے گوادر میں ایک احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار کے قتل کے مقدمے میں یہ سزا سنائی گئی۔ یہ احتجاج مبینہ ریاستی تشدد، جبری گمشدگیوں، احتساب کے فقدان اور غیرملکی سرمایہ کاری سے منسلک منصوبوں کے خلاف کیا گیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھی احتجاج میں شریک تھے اس لیے ان کا قتل کی نیت میں مشترکہ کردار تھا۔ عدالت نے ان کے اس طرز عمل کو دہشت گردی بھی قرار دیا۔ ماہ رنگ بلوچ کے خلاف کم از کم 50 دیگر مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
قوانین کا غلط استعمال
ماہرین نے کہا ہے کہ بظاہر ان مقدمات کا مقصد انہیں اور حقوق کی خلاف ورزی کے متاثرین کے لیے آواز اٹھانے والے دیگر لوگوں کو ڈرانا دھمکانا، سزا دینا اور خاموش کرانا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کے مقدمے کی سماعت جیل کے اندر کی گئی جبکہ ملزمان کو عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہیں اپنی مرضی کا وکیل منتخب کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور سرکاری وکیل کے ذریعے مقدمہ لڑنے پر مجبور کیا گیا۔
ماہرین نے ماہ رنگ بلوچ کی صحت، جیل میں مبینہ نامناسب حالات، طبی سہولتوں کی کمی اور ان کے اہل خانہ پر مبینہ دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت منصفانہ مقدمے کا حق ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ حکومت شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے اور ملکی آئین کے تحت عائد ذمہ داریوں کو پورا کرے اور انسداد دہشت گردی قوانین کے غلط استعمال کو روکے۔
شہری آزادیوں کو خطرہ
ماہرین کے مطابق، ماہ رنگ بلوچ کو یہ سزا ایسے وقت دی گئی ہے جب بلوچستان میں احتجاجی مظاہروں اور سکیورٹی کارروائیوں کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس دوران حد سے زیادہ طاقت کے استعمال، ناجائز گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ سزائیں بلوچستان میں آزاد آوازوں کو خاموش کرنے اور شہری آزادیوں کو مزید محدود کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں کاروباری اور سرمایہ کاری کے منصوبے مقامی آبادی کو منفی طور سے متاثر کرتے ہوں وہاں ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقوق کی خلاف ورزی سے تحفظ فراہم کریں اور یقینی بنائیں کہ متاثرہ افراد بلا خوف و خطر اپنے تحفظات سامنے لا سکیں۔
کاروباری اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کاروبار اور انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق انسانی حقوق کا احترام کریں، مناسب جانچ پڑتال کریں اور متاثرہ برادریوں سے بامعنی مشاورت کریں۔
ماہرین نے مزید نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ ہفتے ہی انسانی حقوق کی ایک اور بلوچ کارکن سمی دین بلوچ، کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ اس سے قبل بھی بڑی تعداد میں سکیورٹی اہلکار بار بار ان کے گھر آتے رہے جسے ماہرین نے انہیں ہراساں کرنے، دباؤ ڈالنے اور خوفزدہ کرنے کے ایک منظم سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔