ترقی پر عالمی تعاون نے بدلی زندگیاں لیکن رفتار ہے سست، رپورٹ
ترقی کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کے نتیجے میں دنیا کے اربوں افراد کی زندگیوں میں بہتری آئی ہے مگر حکومتیں اس سمت میں اپنی کوششوں کو تیز کرنے میں ناکام رہیں تو 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جی) کا حصول ممکن نہیں ہو گا۔
اقوام متحدہ ک جانب سے پائیدار ترقی کے اہداف پر اب تک کی پیش رفت بارے تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2015 میں پائیدار ترقی کے اہداف طے ہونے کے بعد ایک ارب افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہوئی۔ 1.2 ارب لوگوں کو حفظان صحت کی محفوظ اور معیاری سہولتیں میسر آئیں اور ایچ آئی وی کے نئے مریضوں میں 30 فیصد کمی آئی۔
دنیا کی 92 فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت دستیاب ہو چکی ہے۔ انٹرنیٹ تک رسائی 40 فیصد سے بڑھ کر 74 فیصد ہو گئی ہے اور نصف سے زیادہ آبادی کو کسی نہ کسی حد تک سماجی تحفظ حاصل ہے۔
تاہم، رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مجموعی پیش رفت مطلوبہ رفتار سے بہت کم ہے۔ دنیا کی 10 فیصد آبادی اب بھی انتہائی غربت کا شکار ہے۔ 2.3 ارب لوگوں کو غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ زچگی کے دوران اموات کی شرح عالمی ہدف سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
گزشتہ سال عالمی حدت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.43 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہی۔ 273 ملین بچے اور نوجوان تعلیم سے محروم ہیں اور گزشتہ ایک دہائی میں مہاجرین کی تعداد دوگنا سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ میں پائیدار ترقی کے اہداف کو امن کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان 17 مقاصد کے حصول کی راہ میں سیاسی اور مالی مشکلات بدستور موجود ہیں۔
پائیدار ترقی کا سست رو سفر
رپورٹ کے مطابق، پائیدار ترقی کے جن 139 اہداف کے بارے میں اعداد و شمار دستیاب ہیں ان میں سے صرف 36 کی جانب ہی درست رفتار اور سمت میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ 49 فیصد اہداف ایسے ہیں جن کے حصول کی جانب پیش رفت نہایت سست ہے جبکہ 15 فیصد اہداف پر ترقی معکوس کی صورتحال دیکھی جا سکتی ہے۔
بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، عالمی معیشت کی سست روی، قرضوں کا بوجھ اور ترقیاتی امداد میں ریکارڈ کمی نے ان اہداف کے حصول کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان دنیا کے غریب اور کمزور طبقات کو ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے اجرا پر اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے کہا ہے کہ عالمی ترقیاتی بینکوں میں ایسی اصلاحات لائی جانا چاہئیں جن کے ذریعے رکن ممالک کو قرضوں میں آسانی اور طویل المدتی مالی معاونت فراہم کی جا سکے تاکہ وہ ترقیاتی منصوبوں پر موثر انداز میں عمل کر سکیں۔ بہت سے ممالک سے وعدے پورے کرنے کی توقع کی جا رہی ہے لیکن انہیں وہ وسائل ہی فراہم نہیں کیے جا رہے جن کے ذریعے وہ یہ وعدے نبھا سکیں۔
سالانہ فورم کا آغاز
پائیدار ترقی پر اعلیٰ سطحی عالمی سیاسی فورم کا جنیوا میں آغاز ہو گیا ہے جو 16 جولائی تک جاری رہے گا۔ فورم کی میزبان اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ایکوسوک) کے صدر لوک بہادر تھاپا نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماحول دوست توانائی، آبی تحفظ اور دیگر شعبوں میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات پر تشویش ظاہر کی اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ نئے انداز سے کام کریں۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کا ایجنڈا انسانیت، کرہ ارض اور آنے والی نسلوں سے ہمارا مشترکہ وعدہ ہے۔ آنے والے سال یہ نہیں پوچھیں گے کہ مشکلات کتنی تھیں بلکہ یہ دیکھیں گے کہ کیا ہم ان کا مقابلہ کرنے کے قابل ثابت ہوئے یا نہیں۔
وزارتی اجلاس، نئی تجاویز
فورم کا وزارتی مرحلہ 13 سے 16 جولائی تک ہو گا اور اس کے اختتام پر ایک وزارتی اعلامیہ منظور کیا جائے گا۔
مجوزہ اعلامیے میں پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے اور مصنوعی ذہانت جیسی جدید ٹیکنالوجی کے موثر انتظام سے متعلق نظام وضع کرنے کے وعدے شامل ہیں۔
گزشتہ سال کے اعلامیے میں رکن ممالک نے پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے حکومتی سرمایہ کاری میں اضافے، ڈیجیٹل خلیج کو پاٹنے، صحت کے نظام مضبوط بنانے اور زچہ و بچہ کی اموات میں کمی لانے پر اتفاق کیا تھا۔
2026 کے خاص اہداف
’تبدیلی لانے والے، منصفانہ، اختراعی اور مربوط اقدامات‘ پائیدار ترقی کے حصول کی سمت میں اس سال کا بنیادی موضوعی ہے۔
فورم میں ہر سال تمام 17 اہداف کے بجائے چند منتخب اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ 17واں ہدف (شراکت داری برائے ترقی) ہر سال مستقل طور پر زیرِ غور رہتا ہے۔
امسال درج ذیل اہداف پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی:
- چھٹا ہدف: صاف پانی اور صحت و صفائی
- ساتواں ہدف: سستی اور صاف توانائی
- نوواں ہدف: صنعت، جدت اور بنیادی ڈھانچہ
- گیارہواں ہدف: پائیدار شہر اور آبادیاں
ممالک اپنی کارکردگی کیسے پیش کرتے ہیں؟
اقوامِ متحدہ نے رکن ممالک کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنی پیش رفت بارے باقاعدگی سے رضاکارانہ ملکی جائزہ رپورٹپیش کریں۔ گزشتہ 10 سال میں اب تک تقریباً ہر رکن ملک کم از کم ایک رپورٹ پیش کر چکا ہے جبکہ امسال البانیہ سے لے کر یوراگوئے تک 36 ممالک اپنی رپورٹ پیش کریں گے جو فورم کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہیں۔
'پائیدار ترقی ممکن ہے'
اقتصادی و سماجی امور کے لیے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل لی جنہوا نے کہا ہے کہ قرضوں میں سہولت، ترقیاتی مالی وسائل، خوراک اور پانی کے نظام، بنیادی سہولیات اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تو پائیدار ترقی کے اہداف کا حصول ممکن ہے۔
وعدوں پر عملدرآمد کا وقت
امینہ محمد نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی کمی اگرچہ سب سے بڑا مسئلہ ہے تاہم اقوام متحدہ تمام 17 اہداف کے حصول کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2015 کے بعد 2030 کا سفر شروع ہو گیا تھا اور یقیناً 2030 کے بعد بھی ایک نئی منزل طے کی جائے گی کیونکہ دنیا کا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔