انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مصنوعی ذہانت سے فائدہ سب اٹھائیں گے یا صرف چند دولتمند؟

ایک روبوٹک بازو گرین ہاؤس کے اندر سیڈنگ ٹرے میں جوان پودوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔
© Adobe Stock/Kittinan مصنوعی ذہانت سے چلنے والی خودکار مشینری شعبہ زراعت میں بڑی تبدیلیاں لا رہی ہے۔

مصنوعی ذہانت سے فائدہ سب اٹھائیں گے یا صرف چند دولتمند؟

ثقافت اور تعلیم

جنیوا کے پال ایکسپو میں غیرمعمولی گہماگہمی ہے۔ کہیں بچے روبوٹ تیار کر رہے ہیں، کہیں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام طبی تصاویر کا تجزیہ کرکے سرطان کی تشخیص میں مدد دے رہے ہیں اور متعامل نمائشوں کے ذریعے یہ دکھایا جا رہا ہے کہ کس طرح پسماندہ علاقوں کے سکول پہلی مرتبہ انٹرنیٹ سے منسلک ہو رہے ہیں۔

اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا مصنوعی ذہانت دنیا کو بدل دے گی یا نہیں۔ جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا، اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ تبدیلی پوری انسانیت کے لیے ہوگی یا صرف چند خوش نصیب افراد تک محدود رہے گی۔

تین فورم، ایک عالمی مکالمہ

جنیوا ڈیجیٹل ہفتے میں تین ایسے اہم عالمی فورم منعقد ہو رہے ہیں جو ایک ہی مسئلے کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

6 اور 7 جولائی کو 'مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی پر عالمی مکالمہ' کا انعقاد کیا گیا ہے جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ہدایت پر مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق ہونے والا پہلا عالمی فورم ہے۔ اس میں مختلف ممالک یہ بحث کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو کس طرح اور کون سے اداروں کے ذریعے منظم کیا جانا چاہیے۔

6 تا 10 جولائی 'ڈبلیو ایس آئی ایس فورم' کا انعقاد کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل تعاون کے لیے دنیا کا اہم ترین کثیرالفریقی پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عالمی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کا تناسب 15 فیصد سے بڑھ کر عالمی آبادی کے 74 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

مصنوعی ذہانت برائے بہتری کے موضوع پر6 تا 10 جولائی منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس اس سلسلے کا تیسرا فورم ہے جس میں جہاں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسی ایجادات پیش کی جا رہی ہیں جن کا مقصد انسانی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔

یہ تینوں فورم اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ موثر نظم و نسق، بین الاقوامی تعاون اور جدت طرازی کو ایک ساتھ آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔

ایک بلب جس میں ایک چمکتا ہوا دماغ ہے اور اس کے اندر ایک اے آئی چپ ہے، جو مصنوعی ذہانت اور جدت کی علامت ہے۔
© Unsplash/Omar:. Lopez-Rincon مصنوعی ذہانت کے موثر انتظام کے لیے درست معلومات پر مبنی فیصلے ضروری ہیں۔

مساوات کی عظیم قوت 

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس ہفتے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے، طب، بجلی اور دیگر انقلابی ایجادات کے فوائد ہمیشہ سب تک بیک وقت نہیں پہنچے بلکہ بعض معاشروں نے ان سے بہت پہلے فائدہ اٹھایا۔ تاہم، مصنوعی ذہانت میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ترقی کے لیے کئی دہائیوں کا سفر چند برسوں میں سمیٹ دے اور اکیسویں صدی میں مساوات قائم کرنے والی عظیم قوت بن جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ مستقبل ازخود یقینی نہیں۔ آج بھی کمپیوٹنگ کی طاقت، مہارت اور ڈیٹا چند ممالک اور بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔ انسانیت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ مصنوعی ذہانت کی رہنمائی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کرے گی یا محض حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گی۔

اس بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت دنیا کے ان 2.2 ارب افراد تک حقیقی فوائد پہنچا سکے گی جو آج بھی ڈیجیٹل دنیا سے منقطع ہیں۔

  • عدم مساوات کا خاتمہ

ہفتہ بھر جاری مختلف تقریبات میں متعدد ایسے منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت عملی سطح پر عدم مساوات کم کرنے میں کس طرح کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • فوری نتائج

مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام طبی تصاویر کا چند ہی سیکنڈ میں تجزیہ کرکے سرطان کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ زیادہ خطرے والے مریضوں کو ترجیح دی جا سکے۔ ان کا مقصد ڈاکٹروں کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان علاقوں تک معیاری طبی خدمات پہنچانا ہے جہاں ماہرین دستیاب نہیں ہوتے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج کے امکانات بڑھ سکیں۔

  • شفافیت کا فروغ

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی ایک نمائش میں حکام نے مصنوعی ذہانت کے ایسے آلات کا جائزہ لیا جو لاکھوں مالیت کے لین دین کا تجزیہ کرکے منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے مشتبہ نمونوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ ٹیکنالوجی شفافیت کو فروغ دینے اور بدعنوانی کی نذر ہونے والے وسائل کی بازیابی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

  • انٹرنیٹ تک رسائی

مصنوعی ذہانت پر مبنی متعدد منصوبوں کا مرکز دور دراز علاقوں، خصوصاً سکولوں تک انٹرنیٹ کی رسائی کو وسعت دینا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے جو ابھی تک انٹرنیٹ سے محروم ہیں اور انہیں مؤثر انداز میں نیٹ ورک سے جوڑنے کے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں۔

بین الاقوامی ٹیلی کمیونی کیشن یونین (آئی ٹی یو) کی سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈان مارٹن نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اسی صورت وسیع پیمانے پر تقسیم ہو سکتے ہیں جب انٹرنیٹ تک رسائی اور بین الاقوامی تعاون دونوں ایک ساتھ فروغ پائیں۔

  • تنقیدی فکر

تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور پالیسی ساز اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ ایسے دور میں تنقیدی سوچ کو کس طرح مضبوط بنایا جائے جب مشینیں لکھ سکتی ہیں، سوالوں کے جواب دے سکتی ہیں اور لوگوں کو قائل بھی کر سکتی ہیں۔

معیاری تعلیم آج بھی اس لیے ناگزیر ہے کہ لوگ خود معلومات کا ذمہ دارانہ تجزیہ کر سکیں نہ کہ ہر خودکار جواب کو بلا سوچے سمجھے درست مان لیں۔

مساویانہ فروغ

مصنوعی ذہانت کو سب کے لیے فائدہ مند بنانے کی کوششیں اب زیادہ منظم شکل اختیار کر رہی ہیں۔ کانفرنس کے آغاز سے قبل 'اے آئی فار گڈ گلوبل کمیشن' کا قیام عمل میں آیا جس کے 40 سے زیادہ بانی ارکان میں سربراہان مملکت، اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار اور کاروباری دنیا کی نمایاں شخصیات شامل ہیں۔

اس کمیشن کی مشترکہ صدارت روانڈا کے صدر پال کاگامے اور سیلز فورس کے بانی مارک بینیوف کر رہے ہیں جبکہ ڈورین بوگڈن مارٹن نائب صدر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ کمیشن کا مقصد مصنوعی ذہانت پر اعتماد کا فروغ، اس تک رسائی کو وسعت دینا اور دنیا بھر میں اس کے ذمہ دارانہ استعمال کو تیز کرنا ہے۔

یہ اقدام اس بڑھتے ہوئے شعور کی عکاسی کرتا ہے کہ کوئی ایک حکومت، کمپنی یا بین الاقوامی ادارہ تنہا یقینی نہیں بنا سکتا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی منصفانہ اور سب کے لیے مساوی ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف شعبوں اور سرحدوں سے بالاتر اجتماعی قیادت ناگزیر ہوگی۔

دو افراد اے آئی سے چلنے والے مصنوعی اعضاء کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو پس منظر میں تھری ڈی پرنٹرز کے ساتھ ورک بینچ پر دکھائے گئے ہیں۔
UN Women مصنوعی اعضاء کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی، تھری ڈی ماڈلنگ، ڈیجیٹل سکیننگ اور مصنوعی ذہانت سے کام لیا جا رہا ہے۔

ٹیکنالوجی کی ماحولیاتی قیمت

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ نمایاں ماحولیاتی اخراجات بھی وابستہ ہیں۔ ڈیٹا مراکز پہلے ہی بجلی اور پانی کی بہت بڑی مقدار استعمال کر رہے ہیں اور آئندہ برسوں میں اس طلب میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

انتونیو گوتیرش نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ کاربن کے اخراج، پانی کے استعمال اور زمین پر پڑنے والے اثرات کو عوام کے سامنے لائیں اور 2030 تک اپنے ڈیٹا مراکز کو قابلِ تجدید توانائی پر منتقل کریں۔

پیغام واضح ہے کہ ڈیجیٹل عدم مساوات کو کم کرنے کی کوششوں سے کوئی نئی ماحولیاتی عدم مساوات پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ مصنوعی ذہانت تک رسائی اور اس سے وابستہ ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔

فیصلہ کن اور محدود موقع

جنیوا ڈیجیٹل ہفتہ میں شریک لوگوں میں یہ احساس نمایاں ہے کہ وہ تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ کے گواہ ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو سماجی شمولیت کے ایک موثر ذریعہ کے طور پر دیکھنے کا تصور اب محض خواہش نہیں رہا بلکہ پالیسیاں، شراکتیں اور عملی منصوبے اسے حقیقت کا روپ دینے لگے ہیں۔

تاہم، ابھی کچھ بھی حتمی طور پر طے نہیں ہوا۔

جو ٹیکنالوجی سرطان کی بروقت تشخیص، بدعنوانی کے خاتمے اور سکولوں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے میں مدد دے سکتی ہے، اگر اسے موثر نگرانی کے بغیر چھوڑ دیا جائے تو طاقت کے موجودہ ارتکاز کو مزید گہرا بھی کر سکتی ہے۔

جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے کہا ہے، ممکنہ طور پر موجودہ نسل انسانیت کی آخری نسل ہے جس کے پاس انسان اور ذہین مشینوں کے درمیان تعلق کی سمت متعین کرنے کا موقع موجود ہے۔

دروازہ ابھی کھلا ہے، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اس ہفتے جنیوا میں اصل مسئلہ یہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد چند لوگوں تک محدود نہ رہیں بلکہ پوری انسانیت تک یکساں طور پر پہنچیں۔