انسانی کہانیاں عالمی تناظر

نوجوانوں کی اکثریت شادی کی خواہشمند لیکن مالی حالات رکاوٹ، رپورٹ

حجاب پہنے ایک نوجوان اور عورت اپنے ہاتھوں سے دل کی شکل بناتے ہوئے تصویر کے لیے پوز دے رہے ہیں۔
© IOM بیشتر نوجوانوں کی خواہش ہے کہ وہ اپنا شریک حیات تلاش کریں، شادی کریں اور بچوں کی پرورش کریں۔

نوجوانوں کی اکثریت شادی کی خواہشمند لیکن مالی حالات رکاوٹ، رپورٹ

پائیدار ترقی کے اہداف

دنیا بھر میں بیشتر نوجوان شادی کرنے اور بچوں کی پرورش کے خواہش مند ہیں لیکن مالی عدم تحفظ کے باعث ان کی بڑی تعداد کے لیے اپنی یہ خواہش پوری کرنا آسان نہیں رہا۔

اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے تازہ ترین جائزے سے سامنے آیا ہے کہ مالی استحکام، مستقل روزگار اور ذہنی و جذباتی آمادگی نوجوانوں میں والدین بننے کی خواہش کے اہم ترین عوامل ہیں۔ 88 فیصد نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ شادی اور بچے پیدا کرنے کے لیے مالی تحفظ اولین شرط ہے۔ 87 فیصد اس مقصد کے لیے مستقل ملازمت کو ضروری سمجھتے ہیں جبکہ 85 فیصد کا خیال ہے کہ شادی کرنے اور والدین بننے کے لیے جذباتی طور پر تیار ہونا ضروری ہے۔

Tweet URL

73 ممالک اور خطوں میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ نوجوانوں سے بات چیت کے نتیجے میں سامنے آیا ہے کہ دور حاضر کے نوجوان تعلقات، شادی، اولاد اور اپنے مستقبل کے بارے میں کیا خواہشات رکھتے ہیں اور کون سی رکاوٹوں کو اپنی راہ میں حائل سمجھتے ہیں۔

اس جائزے کے نتائج 'زندگیاں، انتخاب اور مستقبل: نوجوان کیا چاہتے ہیں، تعلقات اور والدین بننے سے متعلق ان کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے عوامل' کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں شائع کیے گئے ہیں۔

مثالی زندگی کا تصور

یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دنیا کے بیشتر حصوں میں شرح پیدائش مسلسل کم ہو رہی ہے جس کے باعث آبادی میں تبدیلی کے رجحانات سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کی حکمت عملی پر بحث تیز ہو گئی ہے۔

جائزے کےمطابق، بیشتر نوجوانوں کی خواہش ہے کہ وہ اپنا شریک حیات تلاش کریں، شادی کریں اور بچوں کی پرورش کریں۔ تقریباً دو تہائی شرکا نے شادی کو مثالی زندگی کا حصہ قرار دیا جبکہ بہت ہی کم لوگوں نے کہا کہ وہ اولاد نہیں چاہتے۔

'یو این ایف پی اے' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈائین کیتا کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنے خاندان اور مستقبل کے بارے میں امید، اعتماد اور واضح تصور رکھتے ہیں۔ جب مالی رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں اور انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے لیے بہتر اور درست انتخاب کر سکتے ہیں۔ 

نوجوانوں کی ترجیحات

رپورٹ کے مطابق، شریک حیات کے انتخاب اور والدین بننے جیسے فیصلے صرف ذاتی خواہشات یا اقدار پر منحصر نہیں ہوتے بلکہ ان کا گہرا تعلق ان سماجی اور معاشی حالات سے ہوتا ہے جن میں نوجوان اپنی زندگی استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں مناسب شریک حیات ملنا، رہائش کا خرچ برداشت کرنا، مستقل روزگار کا حصول، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں بانٹنا اور ایسا ماحول میسر ہونا شامل ہے جہاں وہ آزادی اور اعتماد سے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلے کر سکیں۔

جائزے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ شرح پیدائش میں کمی پر عام تشویش اور نوجوانوں کی ذاتی ترجیحات میں واضح فرق ہے۔ جائزے میں ہر 10 میں سے آٹھ افراد نے بتایا کہ بچوں سے ملنے والی خوشی والدین بننے کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ حکومت کی جانب سے حوصلہ افزائی یا مستقبل کی افرادی قوت میں اضافے جیسے عوامل ان کی ترجیحات میں سب سے کم اہمیت رکھتے ہیں۔

امید اور دباؤ

رپورٹ کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ آیا نوجوان خاندانی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں ایسے کون سے حالات اور سہولتیں فراہم کی جائیں جن کی بدولت وہ اپنی منشا کے مطابق تعلقات، خاندان اور مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔

یہ جائزہ مجموعی طور پر ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس میں امید تو موجود ہے مگر اس پر کئی طرح کے دباؤ بھی نمایاں ہیں۔ دو تہائی شرکا نے بتایا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کسی نہ کسی حد تک یا بہت زیادہ پرامید ہیں حالانکہ مسلح تنازعات، سلامتی کے خطرات، معاشی غیر یقینی اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات ان کی زندگی اور فیصلوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔