انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی: کیوبا پر امریکی پابندیوں پر بحث کی قرارداد منظور

UN جنرل اسمبلی میں کیوبا کے خلاف امریکی پابندیوں پر ووٹنگ کے دوران ووٹنگ کے نتائج بڑی اسکرینوں پر دکھائے جاتے ہیں۔
UN Photo/Manuel Elías اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ہال میں کیوبا پر امریکی پابندیوں پر رائے شماری کا نتیجہ سکرین پر آویزاں ہے۔

جنرل اسمبلی: کیوبا پر امریکی پابندیوں پر بحث کی قرارداد منظور

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کیوبا کے خلاف امریکہ کی عائد کردہ معاشی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت پر مباحثہ جاری رکھنے کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے۔

اس قرارداد کے حق میں 136 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 9 ممالک نے اس کی مخالفت کی جن میں ارجنٹائن، کوسٹا ریکا، چیک ریپبلک، اسرائیل، مراکش، شمالی مقدونیہ، پیراگوئے، یوکرین اور امریکہ شامل ہیں۔ 30 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی عام طور پر امریکہ کی جانب سے کیوبا کے خلاف پابندیوں کے معاملے پر ہر سال موسم خزاں میں غور کرتی ہے۔ لیکن اس مرتبہ کیوبا کی درخواست پر ادارے نے یہ اجلاس قبل از وقت منعقد کیا ہے کیونکہ خبردار کیا جا رہا ہے کہ ان پابندیوں کے باعث کیوبا کے عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 

'کیوبا کے خلاف بے رحمانہ جنگ'

کیوبا کے وزیر خارجہ، برونو ایڈوارڈو روڈریگیز نے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے کیوبا کے خلاف کثیرالجہتی اور غیر روایتی جنگ چھیڑ رکھی ہے جو گزشتہ سات ماہ کے دوران پہلے سے کہیں زیادہ بے رحمانہ صورت اختیار کر گئی ہے۔

انہوں نے توانائی کے شعبے میں عائد کردہ پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عملاً بحری ناکہ بندی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی کے مترادف ہیں۔ امریکہ اپنی براہ راست دھمکیوں، یکطرفہ جابرانہ اقدامات اور تیل بردار جہازوں کو فوج کے ذریعے خوف زدہ کر کے کیوبا کی ایندھن تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دباؤ کے ساتھ غیر معمولی اور ماورائے سرحد اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ ثانوی پابندیوں کا استعمال اس ہولناک مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے کہ کیوبا میں انسانی بحران پیدا ہو، ملک مکمل طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جائے اور حالات اس نہج تک پہنچ جائیں کہ سامراجی عسکری مداخلت کا جواز پیدا ہو جس کا انجام خونریزی کی صورت میں نکلے۔

امریکہ کا سخت اعتراض

قرارداد سے متعلق ایک کڑی اور تلخ بحث کے دوران امریکہ کے نمائندے جیفری بارٹوس نے کہا کہ آج اسی موضوع پر دوبارہ بحث کرانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی اکتوبر 2025 میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران زیربحث آ چکا ہے۔

انہوں نے اس اجلاس کو اقوام متحدہ کے وسائل کا غیر ضروری اور فضول استعمال قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف تین گھنٹے کی اس کارروائی پر 84 ہزار ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ اتنی رقم سے کیوبا میں ایک ماہ تک ساڑھے تین ہزار بچوں کو خوراک فراہم کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیوبا کی حکومت کو اس ایوان میں ہر سال ایک مرتبہ اپنی شبیہ بہتر بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔ دوسری مرتبہ ایسا موقع دینے سے صرف ان ناقدین کے موقف کو تقویت ملے گی جو اقوام متحدہ کو غیر سنجیدہ ادارہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آج کے ایجنڈے پر دوبارہ غور کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر باقاعدہ ریکارڈ شدہ رائے شماری کرائی جائے۔

ان کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ بار بار اپنی میز پر ہاتھ مارتے ہوئے دکھائی دیے۔ بعد ازاں انہوں نے ضابطہ کار کے تحت نکتۂ اعتراض اٹھایا اور امریکی مندوب کے بیان کے مندرجات اور اس کے طریقہ کار پر اعتراض کیا۔

اجلاس کی کارروائی دیکھیے