کانگو: ایبولا سے 500 ہلاکتوں کی تصدیق، وباء پر قابو پانے کی کوششیں تیز
جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا کے نتیجے میں 500 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ملک کے مشرقی علاقے میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے نمٹںے کے لیے بڑے پیمانے پر طبی معائنے اور علاج معالجے کے اقدامات جاری ہیں۔
ملک میں 'عالمی ادارہ صحت' کی نمائندہ ڈاکٹر این اینشیا نے بتایا ہے کہ اس وبا کی حقیقی وسعت کا ابھی تک مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔ تاحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صورتحال مستحکم ہو رہی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، 4 جولائی تک ایبولا کے 1,561 مصدقہ مریض سامنے آ چکے تھے جن میں 506 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ 254 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، 10 ہزار سے زیادہ ایسے لوگوں کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے جو متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔
طبی مراکز پر شدید دباؤ
'ڈبلیو ایچ او' وبا پر قابو پانے کے لیے حکومتی کوششوں میں تعاون کرتے ہوئے ہر مریض کی بیماری کی مکمل تاریخ اور رابطوں کا سراغ لگا رہا ہے تاکہ وبا کے پھیلاؤ کی پوری کڑی کو سمجھا جا سکے اور ہر ممکنہ متاثرہ شخص کو بروقت دوسروں سے الگ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر اینشیا نے بتایا ہے کہ طبی مراکز اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ بھر چکے ہیں۔ طبی عملہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود لوگوں کی خدمت میں پوری لگن سے مصروف ہے۔ ایمبولینس گاڑیوں کی کمی ہے اور وبا سے بری طرح متاثرہ صوبہ ایتوری میں درکار تمام سہولتیں فراہم کرنا فی الوقت ممکن نہیں۔
حوصلہ افزا پیش رفت
ڈاکٹر اینشیا نے کہا ہے کہ اگرچہ مسائل برقرار ہیں لیکن کچھ اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ طبی معائنوں کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں دارالحکومت کشاسا میں روزانہ صرف 30 ٹیسٹ کیے جا سکتے تھے، تاہم اب متاثرہ صوبوں میں قائم کردہ 10 تجربہ گاہوں کی بدولت روزانہ 2,000 سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
2 جولائی سے تجربہ گاہ میں دو دواؤں کی آزمائش شروع کی گئی ہے تاکہ ایبولا کی بنڈی بگیو قسم کا موثر علاج ڈھونڈا جا سکے جس کے لیے تاحال کوئی منظور شدہ دوا موجود نہیں۔ ان ادویات کو الگ الگ یا باہم ملا کر استعمال کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ بنڈی بگیو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بقا کے امکانات بہتر بنا سکتی ہیں یا نہیں۔
ڈاکٹر اینشیا نے بتایا کہ صوبہ شمالی کیوو کے جو علاقے عملی طور پر مقامی انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں وہاں مقامی سطح پر وبا کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ کوئی نیا مریض سامنے نہ آئے۔ فیلڈ لیبارٹریوں سے روزانہ بڑی تعداد میں مشتبہ مریضوں کے بارے میں اطلاعات موصول ہوتی ہیں جن کی فوری تحقیقات کی جاتی ہیں۔