انسانی کہانیاں عالمی تناظر

افغانستان کو بے گھری کے بہت بڑے بحران کا سامنا، یو این ادارہ

افغان خواتین اور لڑکیاں، جن میں سے بہت سی ایران اور پاکستان سے جبری طور پر واپس لائی گئی ہیں، اقتصادی اور ماحولیاتی مشکلات کے درمیان اپنی زندگیوں کی تعمیر نو کی کوشش میں ایک بھری ہوئی بے گھر کیمپ سے گزر رہی ہیں۔
© UN Women/Sayed Habib Bidell ایران سے سرحدی علاقے اسلام قلعہ کے راستے واپس آنے والے افغان مہاجرین (فائل فوٹو)۔

افغانستان کو بے گھری کے بہت بڑے بحران کا سامنا، یو این ادارہ

انسانی امداد

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کو بے گھری کے بہت بڑے بحران کا سامنا ہے جہاں غربت، خشک سالی اور زلزلوں نے لاکھوں لوگوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام(یو این ڈی پی) کے تازہ ترین سماجی و اقتصادی جائزے کے مطابق، کمزور معیشت، چار دہائیوں پر محیط جنگوں، 27 لاکھ مہاجرین کی واپسی، موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات اور معاشی و سماجی سرگرمیوں سے خواتین کے اخراج نے روزگار اور بنیادی خدمات پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

Tweet URL

ملک میں ادارے کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا ہے کہ افغانستان میں عموماً کئی بحران ایک ساتھ جنم لیتے ہیں۔ گزشتہ سال تباہ کن زلزلے نے بے شمار گھروں اور لوگوں کے روزگار کو تباہ کر دیا جبکہ غربت ملک کی اکثریتی آبادی کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے۔

ڈی کرو پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برہم صالح کے ساتھ افغانستان کے مشترکہ دورے پر ہیں جہاں وہ واپس آنے والے مہاجرین، مقامی شراکت داروں اور حکام سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ آبادی کی بحالی کے لیے موثر اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔ 

پائیدار تبدیلی کی جانب پیش رفت

'یو این ڈی پی' کے مطابق، افغانستان کی 74 فیصد آبادی یا دو کروڑ 90 لاکھ افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ ایسے میں ادارہ واپس آنے والے پناہ گزینوں اور ان کی میزبان آبادیوں کو مدد دے رہا ہے تاکہ ان لوگوں کی زندگی بحال ہو سکے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ٹرسٹ فنڈ کے تعاون سے گزشتہ سال شروع کیے گئے ایک منصوبے کے ذریعے شمال مشرقی افغانستان میں دیرپا بحالی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ اس کے تحت مقامی آبادی کو تیار کیا جا رہا ہے، واپس آنے والے مہاجرین کی مدد کی جا رہی ہے اور طویل المدتی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جا رہے ہیں۔

صوبہ قندوز اور بغلان کے تین اضلاع کی 69 آبادیوں میں مقامی لوگوں، واپس آنے والے پناہ گزینوں اور اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے لوگوں کے لیے رہائش، بنیادی سہولیات اور روزگار کی فراہمی کے لیے مربوط ترقیاتی معاونت کے لیے شراکتی اقدام کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت 11 آبادیوں میں بارودی سرنگوں سے آلودہ 6,478 مربع میٹر رقبہ صاف کیا جا چکا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے 28 چھوٹے منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جن میں حفاظتی دیواریں، آبپاشی کے نظام میں بہتری اور رابطہ سڑکوں سمیت دیگر عوامی سہولیات شامل ہیں۔ جن علاقوں میں واپس آنے والے مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے وہاں 425 خاندانوں کو مستقل رہائش فراہم کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

محفوظ نقل مکانی اور نئے مواقع

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) نقل مکانی کے مختلف راستوں پر خطرات کو کم کرنے اور پناہ گزینوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔

ادارے کے مطابق، رواں سال پانچ لاکھ 70 ہزار سے زیادہ افغان شہری ایسے ہوں گے جنہیں کسی تیسرے ملک میں آبادکاری کی ضرورت ہو گی۔ اس مقصد کے لیے تعلیم، روزگار، ہنرمند افرادی قوت کی منتقلی اور خاندانی ملاپ جیسے قانونی اور محفوظ راستوں کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی جائے گی۔