صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں اغواء 44 ملاحوں کی رہائی کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی بحری ادارے(آئی ایم او) نے صومالیہ کے ساحلی پانیوں میں قزاقوں اور مسلح لٹیروں کی قید میں 44 ملاحوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ادارے کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینیگیز نے بتایا ہے کہ یہ ملاح اپریل اور مئی میں پیش آنے والے تین الگ حملوں میں نشانہ بننے والے تین جہازوں پر یرغمال بنائے گئے تھے۔ یرغمالی ملاحوں کو خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جبکہ ان پر تشدد کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔
انہوں نے لندن میں جاری ادارے کی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ قزاقی اور سمندری ڈکیتیوں کا خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس سے نمٹنے کے لیے مسلسل چوکسی، باہمی تعاون اور مربوط اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
ادارے کے مطابق، گزشتہ تین ماہ کے دوران بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں جہازوں پر قزاقی اور مسلح ڈکیتی کے 24 کامیاب اور ناکام حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں جو ملاحوں کو درپیش خطرات میں تشویش ناک اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سمندری خطرات کا سدباب
'آئی ایم او'کے مطابق، بحری قزاق اب پہلے سے زیادہ مہلک ہتھیار استعمال کر رہے ہیں اور بے گناہ ملاحوں کے خلاف تشدد کی شدت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ 2024 سے 2025 کے دوران دنیا بھر کے سمندروں میں قزاقی اور مسلح ڈکیتی کے واقعات میں 17 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی تعداد 146 سے بڑھ کر 171 ہو گئی۔
2009 میں مغربی بحر ہند اور خلیج عدن کے 22 ساحلی اور جزیرہ نما ممالک نے 'آئی ایم او' کے 'ضابطۂ اخلاق جبوتی' کی منطوری دی تھی۔ بعدازاں 2017 کے جدہ ترمیمی معاہدے کے ذریعے اس تعاون کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا تاکہ قزاقی، سمندری ڈکیتیوں اور دیگر بین الاقوامی جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائی کی جا سکے۔
اسی مقصد کے تحت 'آئی ایم او' اپنے 'منصوبہ بحیرہ احمر' کے ذریعے جبوتی، ایتھوپیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ ان ممالک کے پانیوں میں بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور ملاحوں کو بہتر تحفظ فراہم ہو۔
آبنائے ہرمز میں ملاحوں کی مدد
'آئی ایم او' نے گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز سے 2,500 ملاحوں کو بحفاظت نکالا تاہم 25 جون کو خلیج عمان میں ایک کنٹینر بردار جہاز پر حملے کے بعد اسے اپنی یہ کارروائی عارضی طور پر روکنا پڑی ہے۔
ادارے کا ہدف مجموعی طور پر 11 ہزار ملاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنا ہے جو خلیج فارس میں موجود تقریباً 600 جہازوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اب تک کم از کم 115 جہاز اس انخلا کی کارروائی میں شریک ہو چکے ہیں۔ ادارہ اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے سے قبل تنازع کے تمام فریقین سے ضروری حفاظتی یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آرسینیو ڈومینیگیز نے کہا ہے کہ 'آئی ایم او' یرغمال بنائے گئے 44 ملاحوں کی رہائی کے لیے پرچم بردار ریاستوں، ساحلی ممالک، علاقائی تنظیموں اور بحری صنعت کے اشتراک سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
انہوں نے جہازوں کے مالکان اور انہیں چلانے والی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عملے کی حفاظت کے لیے تمام ضروری حفاظتی اقدامات اختیار کریں اور اس حساس خطے سے گزرنے سے پہلے خطرات کا مکمل اور جامع جائزہ لیں۔
'آئی ایم او' کونسل کے اجلاس میں عالمی تجارت کے لیے اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ کا معاملہ بھی زیرغور ہے جبکہ سیکرٹری جنرل نے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ یرغمال ملاحوں کی رہائی ممکن بنانےکے لیے بھرپور تعاون کریں۔