منظم جرائم جنگوں کی طرح مہلک اور حکومتوں کی طرح مضبوط
جب لوگ مہلک ترین خطرات کے بارے میں سوچتے ہیں تو عموماً سب سے پہلے ان کے ذہن میں جنگوں کا خیال آتا ہے۔ تاہم ہر سال منظم جرائم بھی خاموشی سے تقریباً اتنی ہی تعداد میں جانیں لے لیتے ہیں جتنی جنگوں میں ضائع ہوتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، 2000ء سے اب تک ہر سال 95 ہزار اموات کا تعلق کسی نہ کسی طرح منظم جرائم پیشہ گروہوں سے رہا ہے۔ یہ تعداد دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے نتیجے میں ہونے والی سالانہ اوسط ہلاکتوں (تقریباً 92,000) کے انتہائی قریب ہے۔
یہ موازنہ ایک واضح سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر منظم جرائم جنگ جتنی ہی جانیں لیتے ہیں تو پھر اس مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اتنی کم توجہ کیوں ملتی ہے؟
جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے، بین الاقوامی منظم جرائم کئی طرح کے ہیں لیکن ان کے نتائج ایک جیسے ہوتے ہیں یعنی کمزور حکمرانی، بدعنوانی، قانون کی عملداری کا خاتمہ، کھلا تشدد، موت اور تباہی۔
تاہم، ان عالمی رجحانات کے پس منظر میں ایک حقیقت ایسی بھی ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ یہ وہ انسانی زندگیاں ہیں جو ان جرائم پیشہ گروہوں سے متاثر ہوتی ہی اور جن کے بارے میں شاذ و نادر ہی خبریں آتی ہیں۔
انسانی سمگلنگ کی کہانی
میری نے 17 سال کی عمر میں نائجیریا کے شہر بنین سٹی کو اس یقین کے ساتھ چھوڑا کہ وہ یورپ کے ایک ریستوران میں ملازمت اور بہتر مستقبل کے لیے جا رہی ہیں۔ لیبیا سے گزرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ انسانی سمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کا شکار بن چکی ہیں۔
اس دوران انہیں جبر، جنسی تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ تو وہ نہ اپنے خاندان سے رابطہ کر سکیں اور نہ ہی خود پر مسلط کیے گئے حالات سے نکل پائیں۔
میری نے اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات کے طویل المدتی نفسیاتی اثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ جس صورتحال سے گزر رہی ہیں وہ اس قدر بڑی اور سنگین ہے کہ وہ خود کو بالغ خاتون محسوس کرتی ہوں۔ انہیں اپنا بچپن جینے کا موقع ہی نہیں ملا۔
تاہم، اس تمام صدمے کے باوجود وہ موہوم سی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ایک روز ان کے پاس ضروری دستاویزات ہوں گی، وہ تعلیم حاصل کریں گی اور اچھا روزگار پائیں گی۔
ان کے الفاظ اس وسیع تر حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کا سامنا کرنے کے بعد زندہ بچ جانے والے لوگ عموماً گہرے صدمے اور امید کا بوجھ بیک وقت ساتھ لے کر چلتے ہیں۔
وسیع تر اور غیرمرئی نقصان
کھلے عام رونما ہونے والے اور عالمی ذرائع ابلاغ میں نمایاں جگہ پانے والے مسلح تنازعات کے برعکس منظم جرائم پس پردہ ہوتے ہیں اور معاشروں، معیشتوں، اور بعض اوقات اداروں کے اندر سرایت کر جاتے ہیں۔
اکثر جرائم پیشہ گروہ صرف منافع کمانے یا نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ طاقت کے مقامی ڈھانچوں کو تشکیل دیتے، عوامی زندگی پر اثرانداز ہوتے اور بعض اوقات خود ریاست کے مدمقابل آ جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم(یو این او ڈی سی) کی تحقیق کے مطابق، دنیا بھر میں 20 فیصد دانستہ قتل منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں ہوتے ہیں جبکہ مغربی نصف کرے کے بعض علاقوں میں یہ شرح تقریباً نصف تک پہنچ جاتی ہے۔
لیکن ان جرائم کے اثرات صرف قتل تک محدود نہیں۔ منشیات کی سمگلنگ ہر سال لاکھوں اموات کا سبب بنتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، افیون کے استعمال سے تقریباً 600,000 اموات ہوتی ہیں۔
جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے صحافیوں، مقامی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف تشدد اداروں کو کمزور کرتا اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جنگ ایسے واضح زخم چھوڑ جاتی ہے جو عالمی توجہ حاصل کر لیتے ہیں لیکن منظم جرائم سے ہونے والا نقصان زیادہ نمایاں نہیں ہوتا لیکن اس کے اثرات اتنے ہی دور رس ہوتے ہیں۔
اگرچہ اموات کو گنا جا سکتا ہے، لیکن اس کے وسیع تر معاشی، سماجی اور دیگر نقصانات کا درست اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہے۔
طاقت کا متوازی نظام
منظم جرائم کو مسلح تنازعات کے مقابلے میں کم توجہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ طاقتور جرائم پیشہ گروہ پس پردہ رہنے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ صرف تشدد پر انحصار نہیں کرتے بلکہ خود کو سماجی اور معاشی ڈھانچوں میں اس طرح ضم کر لیتے ہیں کہ ان کے اثر و رسوخ کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔
'یو این او ڈی سی'کے مطابق، جرائم پیشہ تنظیمیں اکثر اپنے ہی قوانین نافذ کرتی ہیں اور تنازعات کو اپنے اندر ہی حل کرتی ہیں۔ اس کا نتیجہ حکمرانی کے ایک ایسے متوازی نظام کی صورت میں نکلتا ہے جو عملاً کنٹرول قائم کرتا ہے اور خود کو ایک جائز حکومتی ڈھانچے کے طور پر پیش کرتا ہے۔
دنیا کے بعض حصوں میں منظم جرائم پیشہ گروہ ایسے اختیارات استعمال کرتے ہیں جو روایتی طور پر ریاست سے منسوب کیے جاتے ہیں۔ جبر، بدعنوانی، دھوکہ دہی، منڈیوں پر کنٹرول اور خدمات کی محدود فراہمی کے امتزاج کے ذریعے یہ گروہ حکمرانی اور نفاذ قانون کے متبادل نظام قائم کر سکتے ہیں۔
'یو این او ڈی سی' کے مطابق، 2024 تک ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے تقریباً 85 فیصد حصے پر جرائم پیشہ گروہوں کا کنٹرول تھا۔ انہوں نے ریاستی اداروں کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہم بنیادی ڈھانچے پر قبضہ کیا اور تشدد، بھتہ خوری، اور اسلحہ کی سمگلنگ کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں پر اپنی عملداری قائم کی۔
اربوں ڈالر کا دھندا
منظم جرائم کا زیادہ تر اثر و رسوخ انہیں حاصل ہونے والے بھاری منافع سے پیدا ہوتا ہے۔ انہیں زیادہ تر آمدنی منشیات، آتشیں اسلحہ، تارکین وطن، جنگلی حیات، قدرتی وسائل، ثقافتی ورثے، جعلی ادویات، ایندھن، اور دیگر اشیا کی غیر قانونی منڈیوں سے ملتی ہے۔
'یو این او ڈی سی' کے مطابق، منشیات کی سمگلنگ اب بھی بیشتر بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کی مالی بنیاد ہے جو ہر سال سیکڑوں ارب ڈالر پیدا کرتی ہے۔
مشرقی یورپ میں بلقان سمگلنگ کا راستہ ان منافعوں کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ 2019 سے 2022 کے درمیان، افیون اور میتھم فیٹامائن کی سمگلنگ سے منسلک غیر قانونی مالی بہاؤ کا سالانہ تخمینہ 3.4 ارب سے 6.9 ارب ڈالر کے درمیان لگایا گیا تھا۔
ٹیکنالوجی بھی منظم جرائم کو مزید تبدیل کر رہی ہے۔ مواصلات کے نئے ذرائع جرائم پیشہ گروہوں کو سرحد پار آسانی سے کام کرنے کے قابل بنا رہے ہیں، جبکہ دھوکہ دہی، بھتہ خوری، اور آن لائن فراڈ میں ملوث گروہ بیک وقت کئی ممالک میں متاثرین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سائبر جرائم تیزی سے مزید منافع بخش ہوتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2023 میں صرف مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہی آن لائن دھوکہ دہی سے 18 تا 37 ارب ڈالر کمائے گئے۔
منظم جرائم کو صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نقطۂ نظر سے دیکھنا اس مسئلے کے بڑے حصے کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے اثرات صحت عامہ، حکمرانی، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی تک پھیلتے ہیں اور یہ نہ صرف افراد بلکہ ان اداروں کو بھی کمزور کرتے ہیں جن پر ان کا انحصار ہوتا ہے۔
آگاہی کی ضرورت
منظم جرائم پیشہ گروہ اکثر قانونی کاروباروں، پیشہ وارانہ خدمات فراہم کرنے والوں، بھرتی کرنے والی ایجنسیوں اور باقاعدہ سپلائی چین کے ذریعے کام کرتے ہیں جس سے ان کی شناخت اور ان کا خاتمہ کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ایسے گروہ اب سخت درجہ بندی پر مبنی تنظیموں کے بجائے غیر مرکزی نظام کی صورت میں کام کرتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر مجرمانہ کارروائیاں کسی واضح مرکزی قیادت کے بغیر بھی جاری رہتی ہیں۔
'یو این او ڈی سی' کا کہنا ہے کہ منظم جرائم کو ذرائع ابلاغ میں ایسی جگہ نہیں ملتی جو ان کی بیخ کنی میں مدد دے۔ جنگوں میں سرحدیں عبور کرتے ٹینک، میزائل حملے اور بمباری کی زد میں آئے شہروں کی تصاویر لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔ اس سے برعکس، جرائم پیشہ نیٹ ورک شاذ و نادر ہی ایسے مناظر فراہم کرتے ہیں جو کیمرے میں محفوظ کیے جا سکیں۔
انسانی سمگلنگ کی ایک متاثرہ خاتون اس جرم بارے آگاہی کی کمی کے وسیع تر مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اگر خواتین اور لڑکیوں کی سمگلنگ روکنا ہے تو لوگوں کو انسانی سمگلنگ کے مکمل نتائج اور اس کی علامات کے بارے میں آگاہ کرنا ہو گا۔ اس حوالے سے آگاہی کا آغاز سکولوں سے اور کم عمری ہی میں کرنا نہایت ضروری ہے۔