انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مصنوعی ذہانت کے ضوابط پر قابل بھروسہ عالمی معاہدہ ضروری، گوتیرش

UN سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں اے آئی گورننس پر عالمی ڈائیلاگ کے افتتاحی سیشن کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Irina Popa اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش جنیوا میں مصنوعی ذہانت پر عالمی مکالمے کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے ضوابط پر قابل بھروسہ عالمی معاہدہ ضروری، گوتیرش

معاشی ترقی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے عالمی سطح پر جامع اور موثر قوانین و ضوابط تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی فائدے کے لیے تیار کیے جانے والے مصنوعی ذہانت کے جدید اور طاقتور آلات اب جنگ کے میدانوں میں پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے سوئزرلینڈ کے شہر جنیوا میں مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی پر اقوام متحدہ کے پہلے عالمی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ دنیا کے ان اربوں لوگوں کو بھی اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی ملنی چاہیے جو تاحال اس سے محروم ہیں۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے متعلق کوئی بھی عالمی معاہدہ ایسا ہونا چاہیے جس پر پوری دنیا اعتماد کر سکے اور جس میں سلامتی، خصوصاً بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک نے اسی بات کی تائید کرتے ہوئے اے آئی کے خطرناک اور مذموم استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ، اطلاعات کے مطابق 99 فیصد ڈیپ فیک مواد جنسی نوعیت کا ہوتا ہے جبکہ اس کے متاثرین میں 96 فیصد تعداد خواتین اور لڑکیوں کی ہے۔

اقوام متحدہ اے آئی کے لیے موثر ضابطے وضع کرنے کے لیے عالمی کوششوں کی قیادت کر رہی ہے اور انہی کوششوں کا نتیجہ جنیوا میں ہونے والا یہ پہلا عالمی مکالمہ ہے۔

اس دو روزہ اجلاس میں ٹیکنالوجی کمپنیوں اور شعبہ تعلیم کے نمائندے، محققین، فنی ماہرین اور سول سوسائٹی کے ارکان شریک ہیں جو یہ طے کرنے کی کوشش کریں گے اس انقلابی ٹیکنالوجی میں انسان کو مرکزی اہمیت کیسے دی جائے۔ اس سلسلے کا دوسرا اجلاس مئی 2027 میں نیویارک میں منعقد ہو گا۔

مشین پر انسان کی بالادستی

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اے آئی کے عالمی ضابطوں میں ایک اہم ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ ترقی پذیر ممالک کو اس خود سیکھنے والی ٹیکنالوجی تک مستقل اور مساوی رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 2030 تک دنیا کے تمام اے آئی ڈیٹا مراکز کو قابل تجدید توانائی پر منتقل کیا جائے۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اگرچہ تمام انسانوں کے مشترکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی نمایاں اہمیت ہے لیکن مستقبل ایسا ہونا چاہیے جہاں مشینیں معلومات اور مشورہ فراہم کریں، مگر فیصلے انسان کریں اور ان کی ذمہ داری بھی اٹھائیں۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت کا درست استعمال کیا جائے اور اس کے فوائد سب تک پہنچائے جائیں تو یہ ترقی کے کئی عشروں کا سفر چند برسوں میں طے کر سکتی ہے اور اکیسویں صدی میں مساوات لانے کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب اس ٹیکنالوجی کو مکمل حفاظتی جانچ پڑتال سے گزارا جائے اور اس کے استعمال کی قانونی ذمہ داری واضح طور پر متعین کی جائے۔

جب رکن ممالک متفق ہو جائیں کہ اے آئی نظام کی جانچ کیسے ہو گی، خطرات کیسے ماپے جائیں گے اور ذمہ داری کس پر عائد ہوگی تو حفاظت بھی ٹیکنالوجی کے ساتھ سفر کرے گی۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو مختلف اور متضاد قوانین دنیا کو تقسیم کر دیں گے، اخراجات بڑھ جائیں گے اور کسی کو بھی حقیقی تحفظ نہیں ملے گا۔

بچوں کو تحفظ دینے کا عہد

انتونیو گوتیرش نے زور دیا کہ اے آئی کے بارے میں مستقبل کے ہر عالمی معاہدے میں بچوں کی سلامتی اور فلاح کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ انہوں نے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ اے آئی سے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے عہد کی منظوری دیں۔ کوئی بھی بچہ غیر منظم اور غیر آزمودہ مصنوعی ذہانت کا تجرباتی نمونہ نہیں بننا چاہیے۔

اس عہد کے تحت اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ:

  • بچوں کے لیے دستیاب ہر اے آئی نظام خصوصی حفاظتی جانچ اور غیرجانبدارانہ نگرانی سے گزرا ہے۔
  • بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی تصاویر یا مواد تیار کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہوگی اور ایسا مواد فوری طور پر شناخت، رپورٹ اور حذف کیا جائے گا۔
  • اگر کوئی بچہ ذہنی دباؤ یا پریشانی کی علامات ظاہر کرے تو اے آئی فوری طور پر گفتگو روک دے اور اسے حقیقی انسانی معاونت سے جوڑے۔

سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ جب کسی بچے کو نقصان پہنچے تو یہ قابل قبول جواب نہیں ہونا چاہیے کہ 'ایسا الگورتھم نے کیا تھا۔'

 ناقابل سمجھوتہ انسانی حقوق

انہوں نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کا مکمل تحفظ اے آئی کے انتظام کی دوسری بنیادی شرط ہے۔ مصنوعی ذہانت کبھی انسانی وقار کو مجروح نہ کرے اور نہ ہی امتیازی سلوک کو فروغ دے۔ انصاف، صحت اور نفاذ قانون جیسے حساس شعبوں میں مشینیں صرف معاونت فراہم کریں، مگر فیصلہ انسان کرے اور اسی کو اس کا جواب دہ بھی ہونا چاہیے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر نجی شعبہ تقریباً 500 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں اے آئی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے سرکاری سرمایہ کاری اس کے مقابلے میں نہایت معمولی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 20 سے زیادہ ممالک نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 'گلوبل نیٹ ورک فار ایکسچینج اینڈ کوآپریشن آن اے آئی کیپیسٹی بلڈنگ' کے قیام کی حمایت کی ہے۔

اے آئی اور ماحولیاتی تحفظ

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ ہر بڑی اے آئی کمپنی اپنے نظام کے ماحولیاتی اثرات، یعنی کاربن کے اخراج، پانی کے استعمال اور زمین پر پڑنے والے بوجھ کی مکمل معلومات عوام کے سامنے پیش کرے اور یہ عہد کرے کہ 2030 تک اس کے تمام ڈیٹا مراکز قابل تجدید توانائی سے چلیں گے۔

مصنوعی ذہانت بظاہر غیر مادی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کے ماحولیاتی اثرات بالکل حقیقی ہیں۔ دنیا میں اس ٹیکنالوجی کے ڈیٹا مراکز کئی ممالک سے زیادہ بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ 2030 تک ان مراکز میں بجلی کی کھپت دنیا کے پانچ ممالک کے سوا باقی تمام ممالک سے زیادہ ہو سکتی ہے جبکہ ان کی پانی کی سالانہ ضرورت اس قدر زیادہ ہو گی کہ اس سے پورے ذیلی صحارا افریقہ کے ایک ارب 30 کروڑ افراد کی ایک سال کی آبی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

طاقت کے توازن میں تبدیلی کا خدشہ

مصنوعی ذہانت پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کے شریک چیئرمین یوشوا بینگو نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

بعض انتہائی تشویشناک تجربات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جدید ترین اے آئی ماڈل انسانوں کو دھوکہ دینے اور یہ سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ ان کا امتحان لیا جا رہا ہے۔

اے آئی کی ذہانت مسلسل بڑھتی رہے گی۔ یہ بات سائنس فکشن جیسی معلوم ہوتی ہے لیکن یہ ایک حقیقی امکان ہے جو دنیا کو ایسے طریقوں سے بدل سکتا ہے جنہیں ہم ابھی پوری طرح نہیں سمجھتے۔ یہ عالمی طاقت کے توازن کو بھی اس انداز میں متاثر کر سکتا ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔