جانیے اے آئی کے خطرناک نتائج اور انتظام پر یو این مکالمے بارے
کیا مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے محفوظ اور منصفانہ انداز میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس پر آج جنیوا میں اقوام متحدہ کے ایک اہم سربراہی اجلاس میں غور کیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی سے متعلق اس دو روزہ عالمی مکالمے کے موقع پر دنیا بھر کی حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، شعبہ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں گے کہ ایسی ٹیکنالوجی کو کیسے منظم کیا جائے جو اپنی نگرانی کے لیے بنائے گئے قوانین سے کہیں زیادہ تیز رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔
اگر مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ انسانوں کے لیے غیر معمولی اور انقلابی فوائد لا سکتی ہے۔ تاہم، یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ تیزی سے ابھرتی ہوئی یہ ٹیکنالوجی نئے خطرات کو جنم دے رہی ہے۔ اس کی ترقی اتنی تیز ہے کہ اسے محفوظ اور ذمہ دار بنانے کے لیے درکار ضابطے اور حفاظتی انتظامات اس کا ساتھ نہیں دے پا رہے۔
اجلاس سے قبل یو این نیوز نے اس اجلاس کے چار اہم شرکا سے گفتگو کی۔ ان میں دو عالمی مکالمے کے شریک سربراہ اور دو مصنوعی ذہانت سے متعلق آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کے شریک سربراہ ہیں جس نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے پیدا کردہ مواقع اور اس سے لاحق خطرات پر اپنی پہلی رپورٹ شائع کی ہے۔
بات چیت میں ان شخصیات نے زور دیا کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے عالمی سطح پر ایسے رہنما اصول اور حفاظتی ضابطے وضع کیے جانا ضروری ہیں جنہیں پوری دنیا قبول کرے۔
پروفیسر یوشوا بینگو (سائنسی پینل)
مصنوعی ذہانت بہت سے شعبوں میں انسانی صلاحیتوں کے برابر بلکہ بعض معاملات میں ان سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کی رفتار انسان کی سائنسی سمجھ بوجھ اور حکومتوں کی اس کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میدان میں حیرت انگیز پیش رفت ہو رہی ہے جو دنیا کو تبدیل کر رہی ہے اور موجودہ پیش رفت کو دیکھا جائے تو ایسا نظر نہیں آتا کہ انسان اس ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے اسے ضابطہ بند کر سکے گا۔
اقوام متحدہ میں ایسٹونیا کے سفیر رین ٹیمسار (عالمی مکالمہ)
مصنوعی ذہانت دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے مساوات لانے والی عظیم قوت بن سکتی ہے۔ یہ معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے، مسابقت بڑھا سکتی ہے، سائنسی تحقیق اور صحت کے نظام کو مضبوط بنا سکتی ہے اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہی اس ٹیکنالوجی کی اصل صلاحیت ہے۔
اقوام متحدہ میں ایل سلواڈور کی سفیر ایگریسلڈا لوپز (عالمی مکالمہ)
مصنوعی ذہانت حکومتوں کے لیے ایسا موثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں اور عوام کو خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری اور آسانی لا سکتی ہیں۔
رین ٹیمسار
مصنوعی ذہانت ایک ایسا آلہ ہے جس سے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ غلط ہاتھوں میں چلائے جائے تو اسے جبر و استبداد، حکومتوں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے، جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے، پروپیگنڈا پھیلانے اور معلومات کی ساکھ کو مجروح کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماریا ریسا (سائنسی پینل)
مصنوعی ذہانت کی پہلی نسل کو سوشل میڈیا پر استعمال کیا گیا جس نے جھوٹی معلومات کو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلایا۔ اگر جھوٹ میں خوف، غصہ اور نفرت شامل ہو تو یہ وبائی رفتار سے پھیلتے ہیں۔ معلومات کی سچائی اور دیانت داری ہی اس پوری جنگ کا مرکز ہے۔ اگر لوگ حقیقت اور فریب میں فرق نہ کر سکیں تو جمہوریت برقرار نہیں رہ سکتی۔ دنیا اسی سنگین صورت حال سے دوچار ہے۔ اسی لیے میں اسے 'اطلاعاتی قیامت' کہتی ہوں۔
یوشوا بینگو
مصنوعی ذہانت کے فریبانہ رویوں کے بڑھتے شواہد کے پیش نظر موجودہ سائنسی علم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ جیسے جیسے اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں بڑھیں گی وہ خود یا بدنیت عناصر کے ہاتھوں تباہ کن نقصان کا باعث نہیں بنے گی۔
رین ٹیمسار
جدید ترین مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں بنیادی طور پر صرف دو ممالک، امریکہ اور چین، میں موجود ہیں۔ اس صورت حال نے دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو اس ٹیکنالوجی تک رسائی میں بڑھتا ہوا فرق انہیں مزید پیچھے دھکیل دے گا اور شاید وہ کبھی اس خلا کو پر نہ کر سکیں۔
ایگریسلڈا لوپز
مصنوعی ذہانت کا تفاوت ایک حقیقت ہے۔ چند ممالک کے پاس مضبوط بنیادی ڈھانچہ، اعلیٰ مہارتیں اور تحقیق کی بہترین صلاحیتیں موجود ہیں جبکہ بہت سے ممالک اب بھی انٹرنیٹ تک رسائی اور بنیادی عوامی سہولیات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔
ماریا ریسا
دنیا کسی ایسی ٹیکنالوجی کو موثر انداز میں منظم نہیں کر سکتی جسے وہ پوری طرح سمجھتی ہی نہ ہو۔ اس پینل کی رپورٹ آزاد اور غیر جانبدار سائنسی تحقیق پر مبنی ہے جس میں دنیا کے ہر خطے کے ماہرین کی آرا شامل ہیں اور یہ ہر حکومت کے لیے دستیاب ہے۔ اس کا پیغام واضح ہے کہ امکانات بے حد وسیع ہیں مگر خطرات بھی حقیقی ہیں اور مزید تاخیر کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
یوشوا بینگو
دنیا بھر کی مزید حکومتوں کو چاہیے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ مستقبل اور اس سے وابستہ مختلف منظرناموں کو بہتر طور پر سمجھیں۔ اس وقت ملکی و بین الاقوامی سطح پر اس ٹیکنالوجی کو موثر طور سے سنبھالنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ اسی طرح، ایسے موثر طریقے بھی نہیں ہیں جن کے ذریعے اس ٹیکنالوجی کے فوائد پوری انسانیت تک منصفانہ انداز میں پہنچائے جا سکیں۔ اگر پالیسی ساز موثر فیصلے کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس نظام کی گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہو گی۔
ایگریسلڈا لوپز
مصنوعی ذہانت پر عالمی مکالمہ اقوام متحدہ کا پہلا ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں اس ٹیکنالوجی کے انتظام یا ضابطہ کاری پر باقاعدہ گفتگو ہو رہی ہے۔ یہ رکن ممالک کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ اس مسئلے پر جامع اور مشمولہ بات چیت کریں۔ اس میں صرف حکومتیں ہی نہیں بلکہ دیگر تمام متعلقہ فریق بھی شریک ہیں۔
ماریا ریسا
دنیا کا کوئی ایک ملک اکیلا اس ٹیکنالوجی کو موثر طریقے سے نہیں سنبھال سکتا۔ اس کے لیے کثیرالفریقی اور عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے موزوں ادارہ اقوام متحدہ ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا رکن ممالک اس سمت میں عملی اقدامات کریں گے؟
اقوام متحدہ اور مصنوعی ذہانت
مصنوعی ذہانت سے متعلق آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل دنیا کے تمام خطوں سے تعلق رکھنے والے 40 ماہرین پر مشتمل ہے جو اپنی ذاتی اور آزادانہ حیثیت میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس پینل نے یکم جولائی 2026 کو اپنی پہلی رپورٹ شائع کی ہے۔
اس پینل کی سفارشات مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق اقوام متحدہ کے عالمی مکالمے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں جو 6 اور 7 جولائی کو جنیوا میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں عالمی برادری مصنوعی ذہانت کے انتظام اور اس کے موثر عالمی ضابطے تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔