انسانی کہانیاں عالمی تناظر

زچگی کا فسچولا: علاج کے ساتھ کم عمری کی شادیاں روکنا بھی ضروری

ڈاکٹر کنڈی ڈیالو اور ایک طبی ٹیم گنی کے علاقائی ہسپتال لیب کے آپریٹنگ تھیٹر میں سرجری کر رہے ہیں۔
© UNFPA Guinea/Sayon Idovic Loua فسچولا قابل علاج بیماری ہے اور کسی بھی خاتون کو خاموشی سے یہ تکلیف برداشت نہیں کرنی چاہیے۔

زچگی کا فسچولا: علاج کے ساتھ کم عمری کی شادیاں روکنا بھی ضروری

صحت

پاکستان کے بہت سے علاقوں میں لڑکیوں کی نوعمری میں شادی کا رواج آج بھی برقرار ہے جنہیں حمل اور زچگی کی طویل مدتی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی صحت و زندگی پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

زچگی کا فسچولا بھی ایسا ہی اذیت ناک طبی مسئلہ ہے جو عموماً کم عمری کی شادی اور بروقت طبی سہولیات میسر نہ آنے سے جنم لیتا ہے۔ یہ کیفیت حمل یا زچگی کے دوران جسم پر پڑنے والے دباؤ کے باعث پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں رحم کے راستے اور مثانے کے درمیان سوراخ بن جاتے ہیں۔

کم عمری کی شادی اور حمل پاکستان میں فسچولا کی بڑی وجوہات ہیں جبکہ غربت، غذائی کمی، طبی سہولیات کی عدم دستیابی اور آگاہی کا فقدان صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق، فسچولا کے خاتمے کے لیے صرف علاج نہیں بلکہ کم عمری کی شادیوں کا خاتمہ، محفوظ زچگی کی سہولیات کی فراہمی اور خواتین کی صحت و تعلیم میں سرمایہ کاری بھی ضروری ہے ۔

سماجی رسوم، غربت اور بیماری

ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع بہاولپور کی بلقیس اور صوبہ سندھ کے وسطی ضلع میر پور خاص کی امام زادی کم عمری میں شادی کے باعث اسی کیفیت سے دوچار ہوئیں۔ 

امام زادی بتاتی ہیں کہ اس بیماری نے انہیں زندگی سے بیزار کر دیا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم حاصل کریں اور اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں مگر ہمارے معاشرتی رسم و رواج نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

امام زادی کو محض 15 سال کی عمر میں طویل زچگی اور حمل کی پیچیدگیوں کے باعث اس بیماری کا سامنا کرنا پڑا۔ غربت کے باعث اہلخانہ انہیں شہر کے ہسپتال نہ لے جا سکے۔ مقامی کلینک میں زچگی کے دوران ان کی نومولود بیٹی کا انتقال ہو گیا اور وہ کئی سال اس مرض میں مبتلا رہیں جس نے ان کی زندگی کو شدید متاثر کی۔ 

مریضوں کا سماجی مقاطع

فسچولا کا شکار ہونے والی بلقیس کا کہنا ہے کہ ابتدا میں وہ سمجھ نہ پائیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ جسم کے نچلے حصے میں مسلسل نمی اور بدبو نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی۔ لوگ ان سے دور رہنے لگے، رشتہ دار اور ہمسائے انہیں دیکھ کر سرگوشیاں کرتے تھے۔ یوں وہ سماج سے کٹ کر رہ گئیں۔

گھر میں ہی ولادت کی کوشش کے دوران پیدا ہونے والی جسمانی پیچیدگیوں کے بعد انہیں مقامی کلینک پر لے جایا گیا مگر وہاں ضروری آلات اور ماہر ڈاکٹر موجود نہیں تھے۔ بعد ازاں انہیں بڑے ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ان نومولود بچہ جانبر نہ ہو سکا اور بلقیس پیشاب کے مسلسل اخراج کے مسئلے کا شکار ہو گئیں۔

قابل علاج مرض

جنسی و تولیدی صحت کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یواین ایف پی اے) کے تعاون سے کراچی میں قائم کوہی گوٹھ ہسپتال نے کامیاب آپریشن کر کے بلقیس اور امام زادی کی زندگی کو بحال کیا اور اب دونوں روبہ صحت ہیں۔

بلقیس کا کہنا ہے کہ وہ ہر خاتون کو بتانا چاہتی ہوں کہ فسچولا قابل علاج بیماری ہے۔ کسی بھی خاتون کو خاموشی سے یہ تکلیف برداشت نہیں کرنی چاہیے۔ مناسب علاج اور مدد کی بدولت خواتین دوبارہ باعزت زندگی گزار سکتی ہیں۔

کوہی گوٹھ ہسپتال میں فسچولا کے علاج کا مرکز ہر سال 800 سے زیادہ خواتین کو ضروری طبی مدد مہیا کرتا ہے۔ یہاں نہ صرف فسچولا کے آپریشن ہوتے ہیں بلکہ ڈاکٹروں کو تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ آپریشن کی غلطیوں سے ہونے والے فسچولا کو بھی روکا جا سکے۔

یہ فیچر پہلے انگریزی میں یہاں شائع ہوا تھا، جس کا اردو ترجمہ سنبل فاطمہ نے کیا ہے۔