سوڈان: العبید پر ڈرونوں کے نہ ختم ہونے والے حملوں پر تشویش
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جنگ مزید خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے جہاں تزویراتی اہمیت کے حامل شہر العبید پر حکومت مخالف ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے ڈرون حملے اور ہلاکتیں مسلسل جاری ہیں۔
ہائی کمشنر نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے خطاب کرتے ہوئے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ سوڈان میں جاری لڑائی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں جس کے نتیجے میں ملک اور خطہ سنگین انسانی بحران سے دوچار ہے اور شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر مظالم معمول بن گئے ہیں۔
انہوں نے کونسل کو بتایا کہ ان کے دفتر نے گزشتہ ماہ کے آخری تین ہفتوں میں ہی ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت العبید پر 15 ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے جن میں کم از کم 45 شہری ہلاک ہوئے۔
شہری تنصیبات کا بھاری نقصان
وولکر ترک نے بتایا کہ'آر ایس ایف' اور سوڈانی مسلح افواج (ایس اے العبید) کی جانب سے شہر پر ڈرون حملوں میں بازاروں، سکولوں، پٹرول کے ذخیروں، پانی کی تنصیبات اور شہریوں کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
بہت سے لوگ نقل مکانی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا سامان فروخت کرنے پر مجبور ہیں، لیکن سلامتی کے مسائل کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کے لیے شہر سے فرار ناممکن ہو گیا ہے۔ کردفان کے مختلف علاقوں کی طرف نقل مکانی کے راستوں پر ماورائے عدالت قتل، اغوا، تشدد، بدسلوکی، جنسی تشدد اور لوٹ مار کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
ہائی کمشنر نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو العبیدبھی ریاست شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر کی طرح بڑے انسانی المیے کا شکار ہو سکتا ہے جہاں صرف تین روز کے دوران تقریباً 6,000 افراد جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی نذر ہو گئے تھے۔
ہائی کمشنر کا 'سرخ انتباہ'
ہائی کمشنر نے کہا کہ ماضی قریب میں ایسے جرائم کے بارے میں بارہا خبردار کیا جاتا رہا لیکن انہیں روکنے کے لیے کوئی موثر قدم نہ اٹھایا گیا۔ العبیدکے بارے میں 'سرخ انتباہ' حقیقی خطرے کی گھنٹی ہے، جسے دنیا بھر کی حکومتوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اجتماعی مظالم کو روکنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ العبیدکی صورتحال اس بات کی واضح مثال ہے کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کے استعمال کو محدود کیا جانا چاہیے۔ ملک میں ہونے والے جرائم کے ذمہ داروں کا احتساب ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔
زیر محاصرہ شہر پر حملے کی تیاری
العبید میں پانچ لاکھ سے زیادہ شہریوں کے علاوہ ایک لاکھ پناہ گزین بھی موجود ہیں جن میں سے بیشتر الفاشر اور سوڈان کے دیگر تباہ حال شہروں سے نقل مکانی کر کے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، 'آر ایس ایف' نے شہر کی مشرقی سمت کے علاوہ تقریباً تمام داخلی و خارجی راستوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
سوڈان میں حقائق کی تلاش کے لیے آزاد بین الاقوامی مشن کی رکن مونا رشماوی نے کونسل کو بتایا کہ شہری خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ 'آر ایس ایف' سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ہونے والے بیانات اور ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملیشیا شہر میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
نقل مکانی اور امداد سے محرومی
عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ تین ماہ کے دوران کردفان میں نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد دو تہائی بڑھ گئی ہے۔ ملک میں ادارے کے سربراہ رفعت محمد نے پورٹ سوڈان سے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ عام شہری جنگی کارروائیوں کا سب سے بڑا نشانہ ہیں جس کا مقصد آبادی کو بے دخل کر کے شہر پر آسانی سے قبضہ کرنا ہے۔گزشتہ دو ماہ سے العبیدکے رہائشی امداد سے بھی محروم ہیں۔
کونسل میں سوڈان کے نمائندے، سلیم احمد ابراہیم نے جذباتی انداز میں سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق بھی العبیدسے ہے جو زخمی ضرور ہوا ہے لیکن گرا نہیں اور جب تک عوام زندہ ہیں یہ کبھی نہیں گرے گا۔