انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کھیلوں میں یکساں مواقع کے لیے نسلی امتیاز اور نفرت کا خاتمہ ضروری

سفید اور سرخ یونیفارم میں ملبوس خواتین سافٹ بال کھلاڑیوں کا ایک گروپ بیس بال کے میدان میں ایک جھنڈ میں جشن منا رہا ہے۔
Diablos Rojos del Mexico کھلاڑیوں اور شائقین کھیل کو آج بھی آن لائن اور حقیقی زندگی میں نسل پرستانہ رویوں، نفرت پر مبنی اظہار اور ہراسانی کا سامنا ہے۔

کھیلوں میں یکساں مواقع کے لیے نسلی امتیاز اور نفرت کا خاتمہ ضروری

انسانی حقوق

کھیلوں کے شعبے میں نسل پرستی، نسلی امتیاز، اجنبیوں سے نفرت اور عدم برداشت عام ہے جسے روکنے اور ہر فرد کو کھیل کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔

نسل پرستی، نسلی امتیاز اور اجنبیوں سے نفرت کی روک تھام پر اقوام متحدہ کی خصوصی  اطلاع کار ایشونی کے پی نے کہا ہے کہ کھیلوں میں شمولیت، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی بہت زیادہ صلاحیت ہے، مگر افسوسناک طور پر یہ یہ شعبہ بھی معاشرے میں رائج نسل پرستی اور نسلی امتیاز کی عکاسی کرتا ہے اور کئی صورتوں میں انہی رویوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔

Tweet URL

انہوں نےاس معاملے پر اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کو اپنی تازہ ترین رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا بتایا ہے کہ غربت، تنازعات، امتیازی ضوابط اور نمائندگی کے فقدان کی وجہ سے نسلی و لسانی اعتبار سے محروم طبقات کو کھیلوں تک رسائی میں سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ معاشی اور سماجی ناہمواریاں پسماندہ اور محروم گروہوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتی ہیں جبکہ ان ناہمواریوں کی جڑیں عموماً تاریخی اور ساختیاتی نسل پرستی میں پیوست ہیں۔ 

تعصبات اور امتیازی معیارات

ایشونی کے پی نے نشاندہی کی ہے کہ کھلاڑیوں کی اہلیت سے متعلق بعض امتیازی معیار اور پالیسیاں نسلی اور لسانی طور پر محروم طبقات کے کھلاڑیوں کو غیر منصفانہ انداز میں کھیلوں سے باہر رکھتی ہیں۔

برسوں سے رائج تعصبات آج بھی اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ کھلاڑیوں کی صلاحیت کو کیسے پہچانا جاتا ہے، انہیں کس انداز سے تربیت دی جاتی ہے، ان کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے اور معاشرہ انہیں کیسی نظر سے دیکھتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ بات خاص طور پر باعث تشویش ہے کہ نسلی اور لسانی طور پر محروم گروہوں، اقلیتوں، ذات پات کے جبر کا شکار برادریوں اور نسلی بنیاد پر دیگر امتیازی رویوں کا سامنا کرنے والے طبقات کی کھیلوں میں نمائندگی اب بھی بہت کم ہے۔

خصوصی نمائندہ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ایسے محفوظ اور جامع ماحول کو فروغ دیا جائے جہاں ٹرانس جینڈر اور بین جنسی کھلاڑیوں کے وقار، جسمانی خودمختاری اور بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی ہو۔

پسماندگی کی تاریخی میراث

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کھلاڑیوں اور شائقین کھیل کو آج بھی آن لائن اور حقیقی زندگی میں نسل پرستانہ رویوں، نفرت پر مبنی اظہار اور ہراسانی کا سامنا ہے۔

جنگ، تنازعات اور جبری نقل مکانی پہلے سے موجود عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں متاثرہ کھلاڑیوں کو کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی، نقل و حرکت کی پابندیوں اور کھیلوں سے متعلق مواقع کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ کھیلوں میں نسل پرستی اور امتیاز کے خاتمے کے لیے انسانی حقوق پر مبنی نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے۔

انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ امتیازی سلوک پر پابندی، نفرت انگیز اظہار کے سدباب اور جوابدہی کو یقینی بنا کر کھیلوں تک مساوی رسائی فراہم کریں۔ کھیلوں کی تنظیمیں، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی تنوع کو فروغ دیں، حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنائیں اور مشمولہ طرز حکمرانی کو رواج دیں۔

ایشونی کے پی نے کونسل کو بتایا کہ کھیلوں کو واقعتاً برابری کا میدان بنانے کے لیے مستقل سیاسی عزم، اجتماعی کوششوں اور تاریخی ناانصافیوں سے نمٹنے کے پختہ ارادے کی ضرورت ہے۔ جب تک امتیاز اور محرومی کی تاریخی میراث کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک کھیل انسانی وقار، انصاف، شمولیت اور مثبت سماجی تبدیلی کی قوت نہیں بن سکتے۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔