اسرائیل کے غزہ پر حملے اور مغربی کنارے آبادکاری جاری، یو این نمائندہ
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے نمائندے رامز الاکباروف نے کہا ہے کہ غزہ میں لوگوں کے حقوق، ضروریات اور امنگوں کو پورا کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ مغربی کنارے میں مسلسل آبادی کاری قابل عمل فلسطینی ریاست کے امکان کو کمزور کر رہی ہے۔
رامز الاکباروف نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ غزہ بھر میں اسرائیلی فضائی حملے اور زمینی عسکری کارروائیاں بدستور جاری ہیں جبکہ اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی عملداری بھی مسلسل بڑھا رہی ہے۔ ان حالات میں ایسے علاقے وسعت اختیار رہے ہیں جہاں امدادی سرگرمیوں کے لیے خصوصی رابطہ کاری کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اسرائیل کے زیرتسلط علاقوں میں توسیع کے باعث شہریوں کے لیے دستیاب جگہ مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔ غزہ کے فلسطینی اب چند محدود علاقوں تک سمٹ کر رہ گئے ہیں، جہاں وہ عدم تحفظ اور تشدد کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے یہ بات کونسل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی یروشلم، میں اسرائیلی آبادکاری سے متعلق قرارداد 2334 پر عملدرآمد کے حوالے سے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
ہولناک انسانی المیہ
الاکباروف نے کہا، آٹھ ماہ قبل جنگ بندی کا اعلان ہونے کے باوجود غزہ آج بھی انتہائی غیر یقینی صورتحال اور ہولناک انسانی المیے سے دوچار ہے۔
علاقے میں انسانی صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے لیکن ضروریات اب بھی انتہائی وسیع ہیں۔ موجودہ حالات میں قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی افواج کا انخلا، بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی انتظامی ذمہ داریاں قومی انتظامی کمیٹی کو منتقل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے غزہ میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کو ہلاک و زخمی کیے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ انہیں غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر عسکری کارروائیاں شروع کیے جانے کی حالیہ باتوں پر شدید تشویش ہے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے فلسطینی عوام، اسرائیلی شہریوں اور پورے خطے کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی اس تشویش کو بھی دہرایا کہ غزہ میں انسانی بحران بدستور سنگین ہے اور فریقین پر زور دیا کہ انسانی امداد کی مکمل، فوری اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔
غیرقانونی قبضے کی مضبوطی
رامز الاکباروف نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی بستیوں میں مسلسل اور تیز رفتار توسیع کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کو مزید مضبوط کر رہے ہیں اور ایک مکمل خودمختار، آزاد، جغرافیائی طور پر مربوط اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے مغربی کنارے کے علاقہ 'سی'میں زمینوں کی سرکاری رجسٹریشن کے اسرائیلی فیصلے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے مزید آبادکاری اور غیر قانونی قبضہ مزید مستحکم ہونے کا سنگین خطرہ موجود ہے۔
اقوام متحدہ کے نمائندے نے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں پر سیکرٹری جنرل کی گہری تشویش کا اعادہ کیا اور فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلیوں کے خلاف حملوں پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔
نقل مکانی کا سنگین بحران
انہوں نے خبردار کیا کہ آبادکاروں کے حملوں، فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں، گھروں کی مسماری اور طویل فوجی کارروائیوں کے باعث 1967 کے بعد مغربی کنارے میں نقل مکانی کا بہت بڑا بحران پیدا ہو چکا ہے۔
انہوں نے مشرقی یروشلم کے محلہ شیخ جراح میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کی عمارت میں اسرائیلی حکام کی جانب سے عسکری تنصیبات قائم کرنے کے فیصلے کی بھی سخت مذمت کی اور اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ عمارت فوری طور پر اقوام متحدہ کے حوالے کرے۔
رامز الاکباروف نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ 'انروا' کی سیاسی اور مالی معاونت جاری رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ قبضے کے خاتمے، فلسطینی تنازع کے بین الاقوامی قانون، اپنی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق حل کی حمایت جاری رکھے گا۔