انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پاکستان میں موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی پہلی قومی حکمت عملی تیار

آئی او ایم اور پی ڈی ایم اے کے اہلکار پاکستان میں ایک دریا پر سیلاب کی امدادی کارروائیوں میں مدد کر رہے ہیں۔
© IOM/Ovais Ahmed پنجاب کے مدت سے خشک ہوئے دریاؤں میں جب سیلابی ریلا آیا تو حد نظر پانی ہی پانی تھا (فائل فوٹو)۔

پاکستان میں موسمیاتی آفات سے نمٹنے کی پہلی قومی حکمت عملی تیار

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی مدد سے پاکستان میں قدرتی آفات سے پیشگی آگاہی کی پہلی حکمت عملی تیار کی گئی ہے جس سے ملک میں کمزور آبادیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے موثر تحفظ دینے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کی حکومت نے اس حکمت عملی کو یورپی یونین کی مالی معاونت سے نافذ کیا ہے۔ اس کے تحت قومی اور صوبائی سطح پر متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں قدرتی آفات سے  قبل از وقت آگاہی کے نظام میں بہتری لانا، متعلقہ طریقہ ہائے کار کی جانچ پڑتال اور پیشگی اقدامات کو آفات سے نمٹنے کی سرکاری حکمت عملی اور ترقیاتی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا شامل ہے۔

Tweet URL

پاکستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کی نمائندہ انیتا ہرش نے کہا ہے، شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ پیشگی اقدامات پر خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر ممکنہ نقصانات میں سات ڈالر تک کی بچت کا باعث بنتا ہے۔ مون سون کے آئندہ موسم کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ پیشگی اقدامات میں مسلسل سرمایہ کاری کی جائے کیونکہ اس سے نہ صرف زندگیاں اور روزگار محفوظ رہیں گے بلکہ طویل مدتی طور پر وسائل کی بھی بچت ہو گی۔

قدرتی آفات میں کامیاب حکمت عملی

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران موسمیاتی آفات کے باعث 18 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔ اگر 2010، 2011 اور 2022 میں آنے والے بڑے سیلاب بھی مدنظر رکھے جائیں تو یہ نقصان 60 ارب ڈالر سے تجاوز کر جاتا ہے۔ گزشتہ سال مون سون کے سیلاب سے 69 لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ رواں سال کے آغاز ہی میں موسمی کیفیت ال نینو کے باعث خشک سالی اور اچانک سیلاب کے خطرات سے متعلق متنبہ کیا جا چکا ہے۔

ایسے واقعات غذائی تحفظ پر شدید اثرات مرتب کرتے ہیں کہ ان سے لوگوں کے روزگار، مویشیوں اور دیگر اثاثوں کو نقصان پہنچتا ہے جن کی بحالی میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ سال آنے والے سیلاب میں بروقت انتباہ کے نظام کی افادیت عملی طور پر ثابت ہوئی۔ صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور میں'ایف اے او' اور 'ڈبلیو ایف پی'نے یورپی یونین کی معاونت سے فوری قدم اٹھاتے ہوئے سیلاب کی سطح بلند ہونےسے پہلے ہی 15 ہزار لوگوں کو فی خاندان 50 ہزار روپے نقد امداد فراہم کی۔ اس مدد کی بدولت متاثرہ خاندان خوراک اور ضروری اشیا کا ذخیرہ کرنے، محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور اپنے مویشیوں و دیگر اثاثوں کو بچانے میں کامیاب رہے۔

پاکستان میں 'ایف اے او' کے قائمقام نمائندے جیمز رابرٹ اوکوتھ نے کہا ہے کہ آفات سے بچاؤ کا پیشگی اقدام انسانی امداد اور ترقیاتی عمل کے درمیان موثر پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف لوگوں کا تحفظ ممکن ہوتا ہے بلکہ زراعت اور مویشی پالنے کے نظام بھی فعال رہتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سیلابی پانی میں ڈوبے ایک گاؤں کا فضائی منظر۔ مکانات اور درخت جزوی طور پر کیچڑ والے بھورے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
©UNICEF Pakistan پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سیلاب زدہ ایک گاؤں کی فضاء سے لی گئی تصویر (فائل فوٹو)۔

خطرات کے خلاف پیشگی منصوبہ بندی 

پاکستان میں یورپی یونین کے امدادی دفتر کی سربراہ تھینی تھماناگوڈا کا کہنا ہے کہ ملک کو متواتر موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، اسی لیے ایسے جدید طریقہ کار کی ضرورت ہے جو لوگوں کو مستقبل کے ممکنہ بحرانوں کے لیے پہلے سے تیار کریں اور انہیں مضبوط بنا سکیں۔ پیشگی اقدام کی یہ حکمت عملی تیاری کے نظام کو مستحکم بنانے اور بروقت، بہتر معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ 

اس منصوبے کے تحت صوبہ سندھ اور بلوچستان میں قومی، صوبائی اور ضلعی اداروں کے لیے خطرات کے تجزیے، ہنگامی منصوبہ بندی اور فرضی مشقوں کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے۔

آئندہ مرحلے میں صوبائی سطح کے نظام کو قومی حکمت عملی سے ہم آہنگ کیا جائے گا اور ایسے سرکاری مالیاتی انتظامات کو فروغ دیا جائے گا جن کے ذریعے آفات سے پہلے ہی ضروری مالی وسائل جاری کیے جا سکیں۔ اس کام کو وسعت دینے میں یورپی یونین  کے ساتھ جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون (جی آئی زیڈ) بھی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ 

پاکستان میں قدرتی آفات سے بچاؤ کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین انعام حیدر ملک نے کہا ہے کہ آفات کے خطرات کم کرنے اور انسانی و معاشی نقصانات محدود رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کو بروقت فعال کرنا ناگزیر ہے۔ پیشگی تیاری، لوگوں کو اطلاعات کی بروقت فراہمی اور اداروں کے درمیان مربوط ردعمل ہی موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے خطرات سے کمزور آبادیوں کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔