انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مصنوعی منشیات دنیا بھر میں نشے کے استعمال میں اضافے کا سبب، رپورٹ

حفاظتی پوشاک کے تین ماہرین گنی بساؤ میں لیبارٹری کی ترتیب میں سفید پاؤڈر کے نمونے کی جانچ کر رہے ہیں۔
یو این خبرنامہ/ الیگزینڈر سورس گنی بساؤ میں ماہرہن پکڑی گئی کوکین کی جانچ کر رہے ہیں (فائل)۔

مصنوعی منشیات دنیا بھر میں نشے کے استعمال میں اضافے کا سبب، رپورٹ

جرائم کی روک تھام اور قانون

دنیا میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ مصنوعی (سنتھیٹک) منشیات کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دستیابی غیر قانونی نشہ آور اشیا کی عالمی منڈی کو نئی شکل دے رہی ہے جس سے کمزور طبقات کو سنگین طبی خطرات کا سامنا ہے۔

منشیات کی پیداوار اور استعمال کے بارے میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں تقریباً 33 کروڑ 10 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی طرح کی منشیات استعمال کی، جو 15 سے 64 سال عمر کی عالمی آبادی کا 6.2 فیصد ہے جبکہ ایک دہائی قبل یہ شرح 5.2 فیصد تھی۔

Tweet URL

بھنگ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات ہے جس کے صارفین کی تعداد 25 کروڑ 60 لاکھ رہی۔ اس کے بعد افیون 6 کروڑ 30 لاکھ صارفین کے ساتھ دوسرے اور میتھم فیٹامائن تین کروڑ 20 لاکھ صارفین کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھی۔ کوکین کے صارفین کی تعدا دو کروڑ 50 لاکھ اور ایکسٹیسی گولیاں استعمال کرنے والوں کی تعداد دو کروڑ 10 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔

'یو این او ڈی سی' کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مونیکا جوما نے کہا ہے کہ منشیات کی نئی اقسام کی پیداوار اور استعمال میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور خطرناک ہیں۔

مصنوعی منشیات کا تیزرفتار پھیلاؤ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں نئے نفسیاتی اثرات کی حامل 755 منشیات کی نشاندہی ہوئی جن میں 118 پہلی مرتبہ سامنے آئیں۔ اسی طرح، ضبط کی جانے والی مختلف اقسام کی منشیات کی تعداد اب 2000 سے پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ چکی ہے۔

رپورٹ کی مرکزی محقق کلوئے کارپینٹیئر نے یو این نیوز کو بتایا ہے کہ منشیات کی منڈی پہلے سے کہیں زیادہ متنوع اور خطرناک ہو گئی ہے۔ بیشتر لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کون سی منشیات استعمال کر رہے ہیں اور امدادی کارکن بھی نہیں جانتے کہ وہ کس طرح کی منشیات کے اثرات سے نمٹ رہے ہیں۔

منشیات کی عالمی منڈی کا نیا روپ

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2022 میں افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی کے بعد ہیروئن کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اب منشیات فروش تیزی سے فینٹانائل، نائٹازین اور اورفین جیسی مصنوعی افیون فروخت کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر قدرتی افیونی منشیات کی جگہ مصنوعی نے لے لی تو افیون کی عالمی منڈی میں مستقل تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ ان میں بعض منشیات فینٹانائل سے بھی زیادہ طاقتور اور مہلک ہیں جن سے انسانی صحت کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سمگلنگ کے بدلتے طریقے

رپورٹ کے مطابق، میتھم فیٹامائن اب حقیقی معنوں میں عالمی منڈی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس کی سمگلنگ کے نئے راستے مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے مختلف علاقوں تک پھیل گئے ہیں۔

اس کی ضبطی میں اوسطاً 13 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ اس ترسیل اب صرف میانمار سے ہی نہیں ہوتی بلکہ شمالی امریکہ، مغربی و جنوبی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا تک پھیل گئی ہے۔

بھنگ کی سمگلنگ بھی مزید بین الاقوامی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ 2015 سے 2024 کے دوران 57 ممالک اور خطوں نے اپنی ضبط شدہ بھنگ کا ذریعہ شمالی امریکہ کو قرار دیا جبکہ اس سے پہلے کی دہائی میں یہ تعداد صرف 11 تھی۔

غربت اور عدم مساوات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے نقصانات صرف ان کے استعمال سے وابستہ نہیں بلکہ غربت، بے گھری، ذہنی بیماریاں اور علاج کی غیر مساوی سہولیات بھی اس بحران کو مزید سنگین بناتی ہیں۔

خواتین میں منشیات کی لت نسبتاً تیزی سے پیدا ہوتی ہے، لیکن ان کے علاج کے امکانات مردوں کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ دنیا بھر میں منشیات کی لت میں مبتلا ہر 23 خواتین میں سے صرف ایک کو علاج کی سہولت ملتی ہے جبکہ مردوں میں یہ شرح ہر 9 میں سے ایک ہے۔

انجیکشن کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والی خواتین میں ایچ آئی وی سے متاثر ہونے کا امکان مردوں کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

مسلح تنازعات اور منشیات کا پھیلاؤ

جنگوں اور انسانی بحرانوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد منشیات کی لت کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ مہاجرین اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کو علاج کی سہولیات تک رسائی بھی مشکل ہوتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں امدادی ادارے فطری طور پر خوراک، رہائش اور دیگر فوری ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلح تنازعات اور منشیات کی سمگلنگ ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ بدامنی غیر قانونی منڈیوں کو فروغ دیتی ہے جبکہ منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی مزید تشدد اور تنازعات کی مالی معاونت کا ذریعہ بنتی ہے۔

کلوئے کارپینٹیئر نے واضح کیا ہے کہ منشیات کی عالمی منڈی پہلے سے زیادہ پیچیدہ اور باہم مربوط ہوتی جا رہی ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ضروری ہے۔