آبنائے ہرمز: 2500 ملاح یو این کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل
آبنائے ہرمز میں پھنسے 2,500 ملاحوں کو اقوام متحدہ کی مدد سےمحفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے تاہم ایک تجارتی بحری جہاز پر حملے کے بعد یہ کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
بین الاقوامی بحری ادارے (آئی ایم او)نے بتایا ہے کہ اس کارروائی کے ابتدائی چار ایام میں 115 بحری جہاز خلیج فارس سے روانہ ہوئے جن پر تقریباً 2,500 ملاح سوار تھے۔ ادارے نے اس ہفتے تقریباً 11 ہزار ملاحوں کو خلیج فارس سے نکالنے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے جو گزشتہ روز اس وقت روک دی گئی جب ایک کنٹینر بردار جہاز عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے حملے کا نشانہ بنا۔
'آئی ایم او' کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینیگیز نے کہا ہے کہ یہ جہاز انخلا کی کارروائی کا حصہ نہیں تھا۔ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔ تاہم اس نے انخلا کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے عمانی حکام سے رابطہ نہیں کیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ایک ایسے امدادی مشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جو پہلے ہی دنیا کی ایک اہم ترین بحری گزرگاہ میں نازک حالات سے متاثر ہو رہا ہے۔
امدادی کارروائی اور سفارتی پیچیدگیاں
گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے مابین ابتدائی امن معاہدے کے بعد یہ آبی گزرگاہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے۔ اگرچہ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی اور یہ بحری راستہ دوبارہ کھول دیا گیا، تاہم ایک بنیادی سوال بدستور برقرار ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا حتمی اختیار کس کے پاس ہو گا؟ گزشتہ روز ہونے والا حملہ اسی ابہام کے نتائج دنیا کے سامنے لایا ہے۔
ایران واضح کر چکا ہے کہ صرف انہی بحری راستوں کو استعمال کیا جائے جن کی منظوری وہ خود دے گا۔ اس سے برعکس، بہت سے تجارتی جہاز عمان کے ساحل کے قریب جنوبی بحری راہداری استعمال کر رہے تھے جس کا انتظام عمان، امریکہ اور' آئی ایم او' کی مشترکہ نگرانی میں کیا جا رہا تھا۔
جمعہ کو ایرانی حکام نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے حق پر زور دیا جس سے امن عمل کے بحری معاملات سے متعلق غیر یقینی صورتحال مزید نمایاں ہو گئی۔
محفوظ بحری سفر کی ضمانت
آرسینیو ڈومینیگیز نے کہا ہے کہ اس وقت ان کی اولین ترجیح اس اعتماد کو بحال کرنا ہے کہ کسی بھی بحری راستے سے سفر کرنے والے جہاز حملے کا نشانہ نہیں بنیں گے۔
ادارہ جس ضمانت کی بحالی چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ جہاز اور ان پر موجود عملہ محفوظ رہے اور آئندہ کسی جہاز کو صرف اس بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے کہ اس نے کون سا بحری راستہ اختیار کیا۔ ادارہ اس مقصد کے لیے ایران، عمان اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ضروری حفاظتی یقین دہانیاں حاصل کرنے کے بعد انخلا کی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکے۔
بارودی سرنگوں کا مسئلہ
اگرچہ یہ کارروائی فی الوقت معطل ہے تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، جمعہ کو چار جہاز ایران کے زیر انتظام شمالی بحری راہداری سے گزرے جبکہ 11 جہاز عمان اور امریکہ کی معاونت سے قائم کردہ جنوبی راستہ استعمال کرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔
آرسینیو ڈومینیگیز نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 1968 سے رائج بحری ٹریفک کا بین الاقوامی نظام اس وقت قابل استعمال نہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کی مرکزی گزرگاہیں اب بھی بارودی سرنگوں سے آلودہ ہیں۔ اسی وجہ سے جہازوں کو عارضی طور پر دو متبادل بحری راہداریوں کے ذریعے گزارا جا رہا ہے۔
'آئی ایم او' کے مطابق، اس تنازع کے دوران اب تک کم از کم 14 ملاح ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 40 سے زیادہ تجارتی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں۔